سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) کے تحت پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے اہم مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والے ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے وفود پہلی بار بند کمرے میں براہ راست مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بیٹھے ہیں، جبکہ پاکستان نہ صرف مذاکرات کی میزبانی بلکہ اجلاس کی صدارت بھی کر رہا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق برگن اسٹاک کے کانفرنس ہال میں پاکستان، قطر، امریکا اور ایران کے وفود کی موجودگی میں بند کمرے میں بات چیت کا آغاز ہوا۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں طے پانے والے نکات پر پیش رفت کا جائزہ لینا، اعتماد سازی کے اقدامات کو آگے بڑھانا اور مستقبل کے سفارتی عمل کے لیے ایک جامع فریم ورک کو حتمی شکل دینا ہے۔
اعلیٰ سطحی مذاکرات میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بھی شریک ہیں۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی وفد کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب ایرانی وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں۔
مذاکرات کے آغاز سے قبل منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازع کے سفارتی حل کے لیے مکمل اختیارات فراہم کیے ہیں اور ان مذاکرات کے ذریعے آبنائے ہرمز کی بحالی، ایرانی جوہری پروگرام اور دیگر حساس معاملات پر پیش رفت کی کوشش کی جائے گی۔
جے ڈی وینس نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بہترین قیادت اور غیر معمولی مذاکراتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے، جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن کو امریکا کا قریبی دوست قرار دیتے ہوئے مذاکراتی عمل میں ان کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔
اپنی گفتگو کے دوران امریکی نائب صدر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کی خصوصی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ان کی جتنی بات چیت فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہوئی ہے شاید ہی کسی اور شخصیت سے ہوئی ہو۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ان کی زندگی کے دو اہم ترین افراد میں ایک بھارت سے تعلق رکھنے والی ان کی اہلیہ ہیں جبکہ دوسرے پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہیں۔ جے ڈی وینس نے کہا کہ اگر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حکمت عملی اور کوششیں نہ ہوتیں تو شاید یہ مذاکراتی عمل اس مرحلے تک نہ پہنچ پاتا۔ انہوں نے فیلڈ مارشل کو ایک عظیم فوجی رہنما اور بہترین سفارت کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا کو ان کی کوششوں کو سراہنا چاہیے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہی کی کوششوں کے نتیجے میں آج یہ اہم مذاکراتی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور انہیں امید ہے کہ موجودہ بات چیت مثبت اور نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ برگن اسٹاک میں ہونے والے یہ مذاکرات اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر دونوں فریق تکنیکی اور اعتماد سازی کے معاملات پر پیش رفت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل کو تقویت ملے گی بلکہ خطے میں کشیدگی میں کمی اور استحکام کی نئی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔
