Table of Contents
غزہ: غزہ شہر میں ورلڈ کپ فٹبال میچ کی عوامی سکریننگ سے چند لمحے قبل ہونے والے ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ایک امدادی تنظیم کے سینئر اہلکار سمیت 4 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جبکہ واقعے نے کھیل کے ماحول کو سوگ میں تبدیل کر دیا۔
مقامی طبی حکام کے مطابق حملہ غزہ شہر کے صابرہ محلے میں ایک گاڑی پر کیا گیا، جس میں غزہ میں مصری امدادی کمیٹی کے اہلکار محمد الوحیدی، 10 سالہ حمزہ الدیری، اس کا 8 سالہ بھائی فاری اور گاڑی کے ڈرائیور احمد دغمش جاں بحق ہوگئے۔
شفاء اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ کے مطابق چاروں افراد کی لاشیں اسپتال منتقل کی گئیں۔
اسرائیلی فوج کا مؤقف
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ حملے کا اصل ہدف حماس سے وابستہ ایک شخص تھا اور محمد الوحیدی کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا گاڑی کا ڈرائیور احمد دغمش اصل ہدف تھا یا نہیں۔
دوسری جانب مقامی حکام کا کہنا ہے کہ احمد دغمش ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا اور اس کا کسی مسلح گروپ سے تعلق نہیں تھا۔
ورلڈ کپ سکریننگ کا اہتمام
محمد الوحیدی غزہ میں مصری امدادی کمیٹی کے ساتھ کام کر رہے تھے، جو فلسطینی شہریوں کو خوراک، پناہ اور دیگر انسانی امداد فراہم کرتی ہے۔
کمیٹی کے مطابق اس نے غزہ کے مختلف علاقوں میں ورلڈ کپ فٹبال میچز کی عوامی سکریننگ کا انتظام کیا تھا تاکہ جنگ سے متاثرہ شہریوں کو کچھ دیر کے لیے معمول کی زندگی کا احساس دلایا جا سکے۔
مصر کی حمایت
رپورٹ کے مطابق غزہ میں مصر کی قومی ٹیم کو خاصی حمایت حاصل رہی ہے۔ مصری کوچ حسام حسن اس سے قبل کئی مرتبہ فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کر چکے ہیں اور انہوں نے اپنی ٹیم کی کامیابی فلسطینی عوام کے نام بھی کی تھی۔
انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی تھی کہ فلسطینی عوام کو امن اور باوقار زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔
انسانی صورتحال
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر میں جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود اسرائیلی حملوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سیکڑوں بچے بھی شامل ہیں۔
وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں جاری جنگ کے دوران فلسطینی جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 73,110 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور مسلسل فضائی حملوں پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
