Table of Contents
سان جوس: امریکی ریاست کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی پر اہم فیصلہ سنایا ہے۔
عدالت نے اسرائیل پر تنقید کرنے والے غیر ملکی طلبہ کے خلاف کارروائی کو آئینی حقوق سے متصادم قرار دیا۔
جج نول وائز نے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات پر سخت سوالات اٹھائے۔
انہوں نے آزادی اظہار کو امریکی آئین کا بنیادی حق قرار دیا۔
اسٹینفورڈ ڈیلی کو بڑی عدالتی کامیابی
یہ فیصلہ دی اسٹینفورڈ ڈیلی کی درخواست پر سامنے آیا۔
یہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کا طلبہ اخبار ہے۔
اخبار نے حکومت کے اقدامات کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
اخبار کے مطابق بعض غیر ملکی طلبہ ملک بدری کے خوف میں مبتلا تھے۔
اس خوف کے باعث کچھ طلبہ نے اپنی سرگرمیاں محدود کردیں۔
کچھ نے مضامین لکھنے سے بھی گریز کیا۔
اسرائیل پر تنقید اور فلسطین کی حمایت کا معاملہ
ٹرمپ انتظامیہ نے بعض غیر شہری طلبہ کے خلاف کارروائی کی تھی۔
ان طلبہ نے فلسطینیوں کی حمایت کی تھی۔
کچھ طلبہ نے اسرائیلی پالیسیوں پر بھی تنقید کی تھی۔
حکومت نے بعض افراد کے ویزے منسوخ کیے۔
اس کے بعد ملک بدری کی کارروائی بھی شروع کی گئی۔
جج وائز نے ایسے اقدامات کے آئینی جواز پر سوال اٹھایا۔
ان کے مطابق حکومت محفوظ اظہار کو صرف ناپسندیدہ خیالات کی وجہ سے نشانہ نہیں بنا سکتی۔
پہلی ترمیم آزادی اظہار کا تحفظ کرتی ہے
جج وائز نے امریکی آئین کی پہلی ترمیم کا حوالہ دیا۔
انہوں نے آزادی اظہار اور آزادی صحافت کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا۔
ان کے مطابق یہ حقوق صرف امریکی شہریوں تک محدود نہیں ہیں۔
غیر شہری بھی آئینی تحفظ حاصل کرتے ہیں۔
عدالت نے حکومت کو اختلافی خیالات دبانے سے خبردار کیا۔
پانچویں ترمیم کی بھی خلاف ورزی کا معاملہ
عدالت نے امریکی آئین کی پانچویں ترمیم کا بھی جائزہ لیا۔
جج نے ملک بدری سے متعلق بعض قانونی دفعات پر اعتراض کیا۔
ان کے مطابق ان دفعات کا استعمال مبہم انداز میں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عام لوگوں کو قانون کی حدود سمجھ آنا ضروری ہے۔
حکومت کو اپنی صوابدید بھی آئینی حدود میں استعمال کرنا ہوگی۔
امریکی حکومت کی پالیسی پر بڑا سوال
عدالتی فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اہم قانونی دھچکا ہے۔
یہ فیصلہ یونیورسٹی کیمپس میں آزادی اظہار کی بحث کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔
جج وائز نے حکومت کے اقدامات کے ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کی۔
ان کے مطابق لوگ حکومتی کارروائی کے خوف سے خود کو خاموش کر سکتے ہیں۔
عدالت نے ایسی صورتحال کو جمہوری اصولوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
بوسٹن کے فیصلے سے بھی مماثلت
جج وائز کا فیصلہ بوسٹن کی ایک سابقہ عدالتی کارروائی سے بھی ملتا ہے۔
اس مقدمے میں بھی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کو چیلنج کیا گیا تھا۔
بوسٹن کی عدالت نے فلسطین کے حامی غیر شہریوں کے خلاف اقدامات پر سوال اٹھایا تھا۔
نئے فیصلے نے اس قانونی بحث کو مزید تقویت دی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی طلبہ کے خلاف کارروائی کا دفاع کیا ہے۔
تاہم نئے فیصلے کے بعد حکومت کو اپنی پالیسی کا دوبارہ جائزہ لینا پڑ سکتا ہے۔
یہ معاملہ امریکا میں آزادی اظہار اور امیگریشن پالیسی کے درمیان تنازع کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
