Table of Contents
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی امریکی اسپیس اکیڈمی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس ادارے کا مقصد مستقبل کے سویلین اور فوجی خلائی ماہرین کو تربیت دینا ہوگا۔
ٹرمپ نے یہ اعلان ہیوسٹن میں ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر میں خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے نئی اکیڈمی کے قیام سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے۔
امریکی صدر نے کہا کہ نئی اکیڈمی کو معروف امریکی ملٹری اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ کی طرز پر قائم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ امریکی خلائی فورس، ناسا اور نجی خلائی صنعت کی ضروریات پوری کرے گا۔
ٹرمپ کے مطابق اکیڈمی کا مقصد ملک کے بہترین نوجوانوں کو خلائی شعبے کی طرف راغب کرنا ہے۔ انہیں جدید تعلیم اور عملی تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔
امریکی خلائی فورس بھی اکیڈمی سے فائدہ اٹھائے گی
ٹرمپ نے بتایا کہ نئی اکیڈمی امریکی خلائی فورس کے لیے بھی تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرے گی۔
امریکی خلائی فورس مسلح افواج کی چھٹی شاخ ہے۔ یہ خلائی نظام اور امریکی سکیورٹی سے متعلق اہم ذمہ داریاں انجام دیتی ہے۔
ٹرمپ نے خلائی فورس کی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کیا۔ تاہم، انہوں نے اپنے خطاب میں اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
نئی اسپیس اکیڈمی کے مقام کا بھی ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔
چین سے خلائی مقابلہ
امریکا اور چین کے درمیان خلائی شعبے میں مقابلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ دونوں ممالک چاند اور دیگر خلائی مشنز میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکا 2030 سے پہلے چاند کی سطح پر دوبارہ انسان اتارنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین بھی اپنے قمری پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے۔
اس صورتحال میں نئی امریکی اسپیس اکیڈمی کو مستقبل کی خلائی افرادی قوت تیار کرنے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
آرٹیمس 2 کے خلا بازوں کو اعزاز
ٹرمپ نے ناسا کے آرٹیمس 2 مشن کے عملے کو بھی کانگریشنل اسپیس میڈل آف آنر پیش کیا۔
آرٹیمس 2 مشن نے اپریل میں چاند کے گرد پرواز مکمل کی تھی۔ یہ مشن امریکا کے مستقبل کے قمری پروگرام میں اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔
ٹرمپ کا خلاء کے ’سنہری دور‘ کا وعدہ
امریکی صدر نے گزشتہ ہفتے خلائی پروگرام کے ایک نئے دور کا وعدہ بھی کیا تھا۔
ٹرمپ نے چاند اور مریخ سمیت مزید راکٹ لانچ کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے امریکی خلائی پروگرام کے لیے ایک ’’سنہری دور‘‘ کی بات کی۔
نئی اسپیس اکیڈمی کا اعلان بھی اسی وسیع خلائی منصوبے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکا اب سویلین خلائی تحقیق، نجی خلائی صنعت اور فوجی خلائی صلاحیتوں کو ایک ساتھ آگے بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔
