Table of Contents
مظفرآباد: مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر افتخار گیلانی نے آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ قائم مقام صدر آزاد کشمیر چوہدری طارق فاروق نے بھی اپنے عہدے کا حلف لیا۔
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم منتخب کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت اسپیکر چوہدری طارق فاروق نے کی۔
افتخار گیلانی نے 30 ووٹ حاصل کیے
وزیراعظم کے انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بیرسٹر افتخار گیلانی نے 30 ووٹ حاصل کیے۔ ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار خان کو 14 ووٹ ملے۔
اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو 32، 32 ووٹ ملے تھے۔ تاہم وزیراعظم کے انتخاب میں افتخار گیلانی کو دو ووٹ کم ملے۔
مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر بھی اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
عوامی حکومت بنانے کا اعلان
حلف اٹھانے کے بعد وزیراعظم افتخار گیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت سب کو ساتھ لے کر چلے گی۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر ایک چھوٹا خطہ ہے۔ یہاں گورننس کے مسائل موجود ہیں۔ حکومت ان مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔
وزیراعظم نے روزگار کے مواقع بڑھانے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
افتخار گیلانی نے صحت کے شعبے میں بہتری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر کے ہسپتالوں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
آزاد کشمیر کی ترقی اولین ترجیح
وزیراعظم افتخار گیلانی نے کہا کہ ان کی حکومت آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی پر توجہ دے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں عوامی مسائل کا حل شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی کاموں کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ آزاد کشمیر میں ایسا طرز حکمرانی قائم کیا جائے گا جس کی مثال دی جائے گی۔
افتخار گیلانی نے کہا کہ حکومت عوام کی ہوگی۔ یہ دور کشمیر کے عوام کا دور ہوگا اور ریاست کا ہر فرد اس تبدیلی کو محسوس کرے گا۔
افتخار گیلانی کا سیاسی و قانونی پس منظر
بیرسٹر افتخار گیلانی کا شمار آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق مظفرآباد کے ایک معروف سیاسی خاندان سے ہے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد میں حاصل کی۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ گئے۔
برطانیہ میں انہوں نے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی۔ وطن واپسی کے بعد انہوں نے اسلام آباد میں وکالت شروع کی۔
افتخار گیلانی تقریباً ایک دہائی تک شعبۂ وکالت سے وابستہ رہے۔ اس دوران انہوں نے عدالتی اور آئینی معاملات پر بھی کام کیا۔
قانون کے شعبے میں تجربے کے بعد انہوں نے پارلیمانی اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کیا۔
اب آزاد کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد ان کے سامنے گورننس، روزگار، صحت اور ترقیاتی منصوبوں سمیت کئی اہم چیلنجز موجود ہیں۔
حکومت کو عوامی توقعات کا سامنا
نئی حکومت کو آزاد کشمیر میں عوامی مسائل حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ روزگار، صحت اور گورننس کے شعبے عوام کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔
وزیراعظم افتخار گیلانی نے اپنے پہلے خطاب میں ان شعبوں پر توجہ دینے کا واضح عندیہ دیا ہے۔ اب ان کے اعلانات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا نئی حکومت کی اہم ذمہ داری ہوگی۔
