Table of Contents
اسلام آباد: حکومت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل سینیٹ سے واپس لے لیا ہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ بل واپس لینے کا فیصلہ قانونی عمل کو تیز کرنے کے لیے کیا گیا۔
وفاقی وزیر کے مطابق سینیٹ سے پی ٹی آر اے ترمیمی بل واپس لینے کی درخواست جمع کرا دی گئی ہے۔
نیا اور جامع بل جلد پیش کیا جائے گا
شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت تمام ضروری اور بنیادی نکات شامل کرے گی۔
ان کے مطابق اس کے بعد ایک نیا اور جامع بل پیش کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت قانون سازی کا عمل بلا تاخیر مکمل کرنا چاہتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت موجودہ بل واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
90 روزہ قانونی مدت ختم ہونے والی تھی
وفاقی وزیر آئی ٹی نے بل واپس لینے کی ایک اور وجہ بھی بتائی۔
انہوں نے کہا کہ بل کی 90 روزہ قانونی مدت ختم ہونے والی تھی۔ اگر حکومت بل واپس نہ لیتی تو معاملہ مشترکہ اجلاس میں چلا جاتا۔
شزا فاطمہ خواجہ کے مطابق اس وقت مشترکہ اجلاس کے انعقاد کے حوالے سے کوئی حتمی امکان موجود نہیں تھا۔
قانون سازی کا عمل تیز کرنے پر زور
وفاقی وزیر آئی ٹی نے واضح کیا کہ حکومت قانونی عمل کو تیز کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے سینیٹ سے بل واپس لیا گیا ہے۔
حکومت اب ضروری ترامیم اور بنیادی نکات کو شامل کرکے نیا بل تیار کرے گی۔ اس بل کو جامع شکل میں دوبارہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
