Table of Contents
متبادل سرخی: ٹرمپ کا کینیڈا کے نقشے پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرنے کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران ایک بار پھر طنزیہ انداز اختیار کیا ہے۔ انہوں نے ایک ویڈیو میں کینیڈا کا نقشہ دکھایا اور اونٹاریو جھیل کا نام بدل کر ’’امریکہ جھیل‘‘ لکھ دیا۔
ٹرمپ نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر جاری کی۔ ویڈیو میں وہ قلم سے نقشے پر اونٹاریو جھیل کا نام کاٹتے نظر آئے۔
امریکی صدر نے ویڈیو میں کہا کہ اب امریکا کے پاس ایک خلیج اور ایک جھیل موجود ہے۔ ان کا اشارہ خلیج میکسیکو اور اونٹاریو جھیل کی جانب تھا۔
اونٹاریو جھیل کا نام بدلنے کی تجویز
ٹرمپ نے اس سے دو روز قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ ’’اونٹاریو جھیل‘‘ کا نام بدل کر ’’امریکہ جھیل‘‘ رکھنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
ٹرمپ نے اس تجویز کی وجہ کینیڈا کے ساتھ مستقبل میں تجارتی تعلقات کے بارے میں اپنی ناراضی کو قرار دیا۔
تاہم اونٹاریو جھیل کا بیشتر حصہ امریکا اور کینیڈا کی سرحد کے درمیان واقع ہے۔ اس جھیل کا نام تبدیل کرنے کا امریکی فیصلہ کینیڈا پر قانونی طور پر لاگو نہیں ہوگا۔
امریکا اور کینیڈا میں تجارتی کشیدگی
ٹرمپ کا تازہ بیان دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی تجارتی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر نے کینیڈین درآمدات پر مزید محصولات عائد کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ اس معاملے پر واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے امریکا پر کینیڈا کو دباؤ میں لانے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی تجارتی مطالبات کینیڈین معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
کارنی نے کہا کہ واشنگٹن کی پالیسیوں سے کینیڈا کی اہم صنعتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان میں آٹوموبائل، اسٹیل اور ایلومینیم کے شعبے شامل ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان اہم تجارتی تعلقات
امریکا اور کینیڈا کے درمیان دنیا کے بڑے تجارتی تعلقات میں شمار ہونے والا مضبوط اقتصادی رشتہ موجود ہے۔
دونوں ممالک کی سپلائی چینز کئی شعبوں میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ آٹوموبائل، توانائی، زراعت اور صنعتی پیداوار میں باہمی تجارت خاص اہمیت رکھتی ہے۔
اسی لیے تجارتی تنازع دونوں معیشتوں کے لیے اثرات پیدا کر سکتا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرنے کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی پالیسی اور محصولات پر اختلافات جاری ہیں۔
