Table of Contents
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے یا کسی نئے معاہدے کے لیے براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے فوکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی مؤقف واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات فی الحال جاری نہیں ہیں۔
لیویٹ کے مطابق یہ صورتحال اس وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین نہ ہو کہ ایران بامعنی مذاکرات کے لیے سنجیدگی سے تیار ہے۔
ایران پر امریکی دباؤ جاری
وائٹ ہاؤس ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔
ان کے مطابق امریکا نے فوجی کارروائی کے بعد ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے پر توجہ مرکوز کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائی سمیت تمام آپشنز اب بھی زیر غور ہیں۔
امریکا نے ایران پر اقتصادی دباؤ بھی مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مختلف ممالک کو ایران کے ساتھ مالی روابط کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔
انہوں نے پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے فریقوں کے خلاف ثانوی پابندیوں کا عندیہ بھی دیا۔
قطر کی سفارتی کوششیں
وائٹ ہاؤس کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قطر امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی راستہ بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے تہران کا دورہ کیا۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔
قطر کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا بھی اس کوشش کا حصہ ہے۔
قطر اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں کردار ادا کرچکا ہے۔
آبنائے ہرمز بھی مذاکرات کا اہم موضوع
قطری اور ایرانی حکام کے درمیان آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی۔
مذاکرات میں محفوظ بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے عارضی مشترکہ بحری راہداری کے قیام پر غور کیا گیا۔ آبی گزرگاہ سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے منصوبے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
ایران اور عمان بھی آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری کے معاملے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ تاہم راستے کو مکمل طور پر کھولنے کی شرائط پر ابھی حتمی اتفاق نہیں ہوا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ دعویٰ کرچکے ہیں کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے مرکزی بحری راستے سے بارودی سرنگیں صاف کردی ہیں۔
ایران کا مؤقف
ایرانی حکام نے امریکی پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایران نے امریکی اقدامات کو مکمل اقتصادی جنگ قرار دیا ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ امریکی دباؤ کے باوجود ایران اپنے قومی مفادات سے دستبردار نہیں ہوگا۔
موجودہ صورتحال میں قطر کی سفارتی کوششیں اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے تازہ بیان سے واضح ہے کہ واشنگٹن فوری طور پر براہِ راست مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار نہیں۔
