Table of Contents
نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ مختلف اطلاعات کے مطابق ایک ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
نیپالی ضلع راسووا میں سیلابی ریلے سے ہلاکتوں کی تعداد 270 تک پہنچ گئی ہے۔ سیکڑوں افراد کی تلاش جاری ہے۔ تاہم حکام کے مطابق ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کے اعداد و شمار مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات میں تقریباً 1400 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ بعد میں 100 سے زائد افراد کو تلاش کرلیا گیا۔ ان میں 100 بھارتی اور 25 چینی شہری بھی شامل ہیں۔
غیر ملکی شہری بھی لاپتہ
نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں متعدد غیر ملکی سیاحوں سے رابطہ منقطع ہوا ہے۔ لاپتہ افراد میں 33 ممالک کے 517 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔
ان میں 178 بھارتی، 65 امریکی، 53 یوکرینی، 55 ملائیشین اور 35 آسٹریلوی شہری شامل ہیں۔ اس فہرست میں 33 برطانوی، 25 کینیڈین اور 9 جنوبی کوریائی شہری بھی شامل ہیں۔
برطانیہ کے 33 لاپتہ شہریوں میں ایک 13 سالہ لڑکی اور 14 سالہ لڑکا بھی شامل ہیں۔
12 برطانوی سیاحوں سے رابطہ منقطع
سیاحتی کمپنی الپائن ایکو ٹریک کے مطابق ماؤنٹ کیلاش جانے والے 12 برطانوی شہریوں کے گروپ سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
کمپنی کے مطابق لاپتہ افراد کی عمریں 13 سے 65 سال کے درمیان ہیں۔ کمپنی نے ان کی تلاش کے لیے امدادی ہیلی کاپٹر کا انتظام کرنے کی کوشش کی۔
تاہم خراب موسمی حالات کے باعث ہیلی کاپٹر پرواز نہیں کر سکا۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ ریسکیو کارروائیوں میں تعاون جاری رکھے گی۔
نیپال میں 288 بھارتی شہری لاپتہ
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق نیپال میں کم از کم 288 بھارتی شہری تاحال لاپتہ ہیں۔ ان میں سیاحوں کے علاوہ نیپال میں کام کرنے والے بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ چین کے علاقے تبت میں تقریباً 200 بھارتی شہری پھنسے ہوئے ہیں۔ بھارتی حکام ان شہریوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے مقامی حکام سے رابطے میں ہیں۔
تبت میں بھی بڑے پیمانے پر نقصان
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت کے گیرونگ علاقے میں مٹی اور چٹانوں کے تودے گرنے سے 558 افراد لاپتہ ہیں۔ ان میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔
واقعے میں کم از کم 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان
سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے سرحدی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ متعدد گھر، سڑکیں اور پل متاثر ہوئے ہیں۔
بجلی کے منصوبوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ خراب موسم اور متاثرہ راستوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
بھارت نے بھی صورتحال کے پیش نظر سیلاب کا الرٹ جاری کردیا ہے۔
برطانیہ کی 5 ملین پاؤنڈ امداد کی پیشکش
برطانوی حکومت نے نیپال میں امدادی سرگرمیوں کے لیے 50 لاکھ پاؤنڈ کی مدد کی پیشکش کی ہے۔
برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے صورتحال کو انتہائی پریشان کن اور تباہ کن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ متاثرہ افراد اور لاپتہ شہریوں کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا۔
برطانوی دفتر خارجہ نے بھی نیپالی حکام سے رابطہ برقرار رکھا ہے۔ دفتر خارجہ نے علاقے میں موجود برطانوی شہریوں کو مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
حکام کے مطابق ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔ لاپتہ افراد کی تلاش کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانے کی کوششیں بھی تیز کردی گئی ہیں۔
