Table of Contents
بحرالکاہل میں موسمیاتی صورتحال نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ جنوبی بحیرۂ چین اور شمال مغربی بحرالکاہل میں بیک وقت تین طاقتور طوفان سرگرم ہیں۔
ان طوفانوں سے چین، تائیوان اور جاپان کے مختلف علاقوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ موسمیاتی ماہرین نے شدید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
چین میں ہنگامی الرٹ جاری
چین کے محکمۂ موسمیات نے ممکنہ خطرے کے پیش نظر لیول فور کا ہنگامی الرٹ جاری کردیا ہے۔
حکام نے ساحلی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ سمندری سرگرمیوں اور نقل و حمل پر بھی طوفانوں کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
موسمیاتی نظام میں گینیری، نارا اور سوڈیل نامی تین طوفان سرگرم ہیں۔ ان میں سوڈیل کے مزید طاقتور ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
سوڈیل کے سپر ٹائیفون بننے کا خدشہ
ماہرین کے مطابق سوڈیل ایسے سمندری علاقے میں موجود ہے جہاں پانی کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہے۔
گرم سمندری پانی طوفان کی شدت میں اضافے کے لیے سازگار حالات پیدا کرسکتا ہے۔ اسی وجہ سے سوڈیل کے سپر ٹائیفون بننے کے امکانات پر نظر رکھی جارہی ہے۔
امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ طوفان ریوکیو جزائر سے گزرنے کے بعد مشرقی بحیرۂ چین کی جانب بڑھ سکتا ہے۔
تائیوان اور چین کے لیے خطرہ
رپورٹس کے مطابق گینیری طوفان تائیوان کے دارالحکومت تائپے سے تقریباً 320 کلومیٹر دور موجود ہے۔
طوفان کے مرکز کے قریب تیز ہوائیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اس کے شمال مغربی سمت میں بڑھنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب نارا طوفان چین کے جنوبی علاقوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ گوانگشی، ہینان اور گوانگ ڈونگ میں شدید سے انتہائی شدید بارشوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
جاپان میں بھی موسمی خطرات بڑھ گئے
موسمیاتی ماہرین نے جاپان کے مختلف علاقوں میں بھی طوفانی اثرات کا امکان ظاہر کیا ہے۔
تینوں طوفانوں اور جنوب مغربی مانسون کے مشترکہ اثرات سے شدید بارش ہوسکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
رواں سال طوفانوں میں اضافہ
رپورٹس کے مطابق رواں سال طوفانی سرگرمیوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
جنوری سے اب تک 20 طوفان بن چکے ہیں۔ اس عرصے میں طوفانوں کی اوسط تعداد تقریباً 13 سے 14 رہتی ہے۔
حکام نے شہریوں کو موسمی صورتحال پر نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ ساحلی علاقوں کے ساتھ سمندری اور زمینی سفر کرنے والے افراد کو بھی خصوصی احتیاط کا مشورہ دیا گیا ہے۔
