Table of Contents
سیول: جنوبی کوریا کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت پر شمالی کوریا نے شدید ردِعمل دیا ہے۔
پیانگ یانگ نے امریکی اقدام کو اپنی سلامتی کے لیے نیا خطرہ قرار دیا ہے۔ شمالی کوریا نے کسی بھی جارحانہ اقدام کا فوری جواب دینے کی دھمکی بھی دی ہے۔
امریکا نے جنوبی کوریا کو میزائل فروخت کرنے کی منظوری دے دی
امریکی محکمہ خارجہ نے جنوبی کوریا کو میزائل فروخت کرنے کی منظوری دی ہے۔
مجوزہ معاہدے کی مالیت 125 ملین ڈالر ہے۔ اس میں اے آئی ایم 9 ایکس سائیڈ وائنڈر میزائل شامل ہیں۔
معاہدے میں متعلقہ فوجی ساز و سامان بھی شامل ہے۔ یہ میزائل فضائی اہداف کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں۔
شمالی کوریا نے امریکی اقدام مسترد کردیا
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے امریکی فیصلے کی مذمت کی ہے۔
وزارت کے ترجمان نے امریکا پر دشمنانہ پالیسی جاری رکھنے کا الزام لگایا۔
ترجمان کے مطابق اسلحے کی نئی فروخت خطے کی سلامتی کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے امریکی اقدام کو شمالی کوریا کے لیے نیا خطرہ قرار دیا۔
پیانگ یانگ کی سخت جوابی کارروائی کی دھمکی
شمالی کوریا نے اپنے ردِعمل میں سخت انتباہ جاری کیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ کسی بھی دشمنانہ اقدام کا جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے جواب کو فوری اور طاقتور قرار دیا۔ شمالی کوریا نے مختلف شعبوں میں کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے۔
امریکا اور جنوبی کوریا کے فوجی تعاون پر اعتراض
شمالی کوریا نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے فوجی تعاون پر بھی اعتراض کیا ہے۔
پیانگ یانگ کے مطابق ایشیا پیسیفک میں فوجی انضمام بڑھ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کو مزید جدید ہتھیار فراہم کرنے پر بھی تنقید کی ہے۔
رواں سال کئی ہتھیاروں کی فروخت منظور ہوئی
شمالی کوریا کے مطابق امریکا نے رواں سال جنوبی کوریا کے لیے کئی دفاعی معاہدوں کی منظوری دی ہے۔
ان میں جدید میزائل بھی شامل ہیں۔ بحری اور جنگی ہیلی کاپٹر بھی ان معاہدوں کا حصہ ہیں۔
امریکا نے جنوبی کوریا کے لیے درست نشانے والے بموں کی فروخت بھی منظور کی ہے۔
واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان رابطے کی کوششیں
شمالی کوریا کا یہ ردِعمل ایک اہم وقت پر سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں کم جونگ اُن سے دوبارہ رابطے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما سے ملاقات میں دلچسپی بھی ظاہر کی ہے۔ تاہم پیانگ یانگ نے مذاکرات کی بحالی پر واضح آمادگی نہیں دکھائی۔
جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی برقرار
امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان فوجی تعاون پر شمالی کوریا مسلسل اعتراض کرتا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں دونوں ممالک نے مشترکہ فوجی مشقیں بھی کی ہیں۔ واشنگٹن نے ان مشقوں کا دائرہ محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے باوجود پیانگ یانگ نے امریکی فوجی موجودگی پر اعتراض برقرار رکھا ہے۔
جنوبی کوریا اور امریکا کے درمیان دفاعی تعاون خطے کی سکیورٹی کا اہم حصہ ہے۔ دوسری جانب شمالی کوریا اسے اپنے خلاف فوجی دباؤ قرار دیتا ہے۔
تازہ امریکی اسلحہ معاہدے نے دونوں کوریاؤں کے درمیان کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
