Table of Contents
امریکی صدر Donald Trump نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی نئی سفارتی تجویز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے “احمقانہ” قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران پر دباؤ برقرار رکھے گا اور تہران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران کے نمائندوں کی جانب سے بھیجا گیا جواب پڑھ لیا ہے، تاہم یہ جواب مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سابق امریکی صدور Barack Obama یا Joe Biden اقتدار میں ہوتے تو شاید ایران کی شرائط مان لیتے، لیکن ان کی حکومت ایسا نہیں کرے گی۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکا اور عالمی برادری کے ساتھ “کھیل” کھیل رہا ہے، تاہم اب امریکا سخت حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ایران شدید دباؤ میں ہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق اہم بیان
ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی اہم اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا “فریڈم پروجیکٹ” کو دوبارہ فعال کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ صرف تجارتی جہازوں کے تحفظ تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی ناکہ بندی ایک “شاندار فوجی منصوبہ” تھا اور امریکا خطے میں اپنی حکمت عملی جاری رکھے گا۔
ایران کے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف
امریکی صدر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے خود اعتراف کیا ہے کہ ان کے پاس ایٹمی فضلے کو محفوظ طریقے سے ہٹانے کی ٹیکنالوجی موجود نہیں اور اس مقصد کے لیے انہیں امریکا کی ضرورت ہوگی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اس وقت “انتہائی نگہداشت” کی حالت میں ہے اور خطے کی صورتحال اب بھی نازک ہے۔
کرد فورسز پر بھی تنقید
امریکی صدر نے کرد فورسز سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا نے انہیں ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے بڑے پیمانے پر ہتھیار فراہم کیے تھے، لیکن انہوں نے وہ ہتھیار اپنے پاس رکھ لیے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے اندر بھی مختلف سوچ رکھنے والے عناصر موجود ہیں، جن میں اعتدال پسند اور سخت گیر دونوں شامل ہیں، تاہم ایرانی قیادت اکثر مذاکرات میں اتفاق کے بعد اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ جاتی ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی
ٹرمپ کے حالیہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں سفارتی رابطے جاری ہیں۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز، خلیجی سکیورٹی اور ایران پر پابندیوں کے معاملے پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے سے پہلے اپنے اسٹریٹجک مفادات اور عالمی سلامتی کو ترجیح دے گا۔
