بھارتی ریاست منی پور میں علیحدگی پسند تحریک ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے بھارتی سکیورٹی صورتحال پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر مسلح علیحدگی پسند عناصر کو بھارتی فوج کے آسام رائفلز کیمپ میں داخل ہوتے اور آزادانہ گھومتے پھرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مودی حکومت کی انتہا پسند اور متعصبانہ پالیسیوں کے باعث شمال مشرقی ریاست منی پور میں بدامنی اور علیحدگی پسند تحریکوں میں اضافہ ہوا ہے۔ وائرل ویڈیو میں مسلح افراد کی موجودگی کو بھارتی سکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
ویڈیو میں بعض افراد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیراعلیٰ منی پور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علیحدگی پسند گروپ نے آسام رائفلز کے ایک کیمپ پر قبضہ کر لیا، تاہم بھارتی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ماہرین کے مطابق اگر ویڈیو کے مناظر درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صورتحال بھارتی فوج اور سکیورٹی اداروں کے لیے تشویشناک سمجھی جائے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ منی پور کے علاوہ آسام، ناگالینڈ اور دیگر شمال مشرقی ریاستوں میں بھی مختلف علیحدگی پسند گروپ متحرک ہیں اور نئی دہلی کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ منی پور گزشتہ کئی ماہ سے نسلی فسادات، سیاسی کشیدگی اور سکیورٹی بحران کا شکار ہے، جہاں مختلف مسلح گروہوں اور مقامی برادریوں کے درمیان جھڑپوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
