Table of Contents
یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک اہم فیصلے میں مغربی کنارے میں پرتشدد کارروائیوں میں ملوث بعض اسرائیلی آبادکاروں اور تنظیموں کے ساتھ ساتھ حماس کے بعض رہنماؤں پر بھی پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالس کے مطابق یہ اقدام اس لیے ضروری تھا تاکہ "تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف واضح پیغام دیا جا سکے” اور طویل عرصے سے جاری تعطل کو عملی اقدامات میں بدلا جا سکے۔
پابندیوں کی تفصیل
یورپی حکام کے مطابق:
- سات اسرائیلی آبادکاروں اور بعض آبادکاری سے منسلک تنظیموں کو بلیک لسٹ کیا جائے گا
- ان افراد اور اداروں کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے
- ان پر یورپی یونین میں داخلے پر پابندی بھی عائد ہوگی
- حماس کے بعض رہنماؤں کے خلاف بھی نئی پابندیاں منظور کی گئی ہیں
تاہم پابندیوں کے نفاذ سے قبل تکنیکی اور قانونی مراحل مکمل کیے جائیں گے۔
سیاسی پس منظر
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب مغربی کنارے میں آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد میں اضافہ رپورٹ کیا گیا۔ بعض رکن ممالک کے درمیان اس معاملے پر اختلاف بھی پایا گیا، تاہم بعد ازاں سیاسی پیش رفت کے نتیجے میں اتفاق رائے پیدا ہوا۔
اسرائیل کا ردعمل
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین نے "سیاسی بنیادوں پر غیر منصفانہ اقدامات کیے ہیں” اور یہ کہ "اسرائیلی شہریوں اور حماس کے درمیان موازنہ ناقابل قبول ہے”۔
یورپی موقف
یورپی حکام کا مؤقف ہے کہ پابندیاں مخصوص افراد اور اداروں کے خلاف ہیں، نہ کہ پورے آبادکاری نظام کے خلاف، اور ان کا مقصد صرف وہ عناصر ہیں جن پر فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے الزامات ہیں۔
