Table of Contents
کوئٹہ میں بلوچستان کی صورتحال پر 2 روزہ 28واں دفاعی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور کور کمانڈر کوئٹہ نے کی۔
اجلاس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ امن و استحکام کے لیے جاری اقدامات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر بھی بات ہوئی۔ شرکا نے بلوچستان کے لیے مزید اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
بلوچستان کی ترقی اور عوامی فلاح پر زور
اجلاس میں بلوچستان کے روشن اور درخشاں مستقبل کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل پر بھی زور دیا گیا۔
شرکا نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں امن کے ساتھ ساتھ صوبے کی ترقی کو بھی اہم ترجیح قرار دیا گیا۔
کوئٹہ سمیت اہم علاقوں میں سیف سٹی منصوبہ
اجلاس کے دوران دارالحکومت کوئٹہ سمیت اہم علاقوں میں مرحلہ وار سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔
اس منصوبے سے شہری علاقوں کی سیکیورٹی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ جدید نگرانی کے نظام کے ذریعے اہم مقامات کی نگرانی مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
ہر تین ہفتے بعد اجلاس کا انعقاد
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی جائزہ اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان اجلاسوں کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں امن اور استحکام کے لیے یہ سلسلہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اجلاس ہر تین ہفتے بعد منعقد ہوتا ہے۔ اس کا مقصد سابقہ فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس کے ذریعے صوبے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔
وفاقی، صوبائی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی شرکت
اجلاس میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مختلف محکموں کے افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔
سیکیورٹی فورسز کے نمائندگان نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ شرکا نے صوبے کی سیکیورٹی صورتحال اور جاری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کو سراہا گیا
اجلاس میں رواں ماہ دہشتگردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو سراہا گیا۔
شرکا نے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ اجلاس میں امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی اداروں کی کوششوں کو اہم قرار دیا گیا۔
شرکا نے بلوچستان میں امن، ترقی اور عوامی فلاح کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
