ریاض: وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی قیادت میں پاکستانی پاور سیکٹر کے اعلیٰ سطحی وفد نے ریاض میں سعودی انرجی ورکنگ گروپ سے اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون، سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کو مزید فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر توانائی نے سعودی وفد کو پاکستان کے پاور سیکٹر میں جاری جامع اصلاحاتی پروگرام سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت ادارہ جاتی اصلاحات، بہتر طرز حکمرانی، ڈیجیٹلائزیشن اور مالیاتی پائیداری کے ایجنڈے پر بھرپور انداز میں عمل پیرا ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ حکومت پاکستان نجی شعبے کی مؤثر شمولیت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے اور صاف توانائی کو مؤثر انداز میں قومی نظام کا حصہ بنانے کے لیے ٹرانسمیشن گرڈ کی توسیع ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر پاکستان کے توانائی مستقبل کی بنیادی ضرورت ہے، جبکہ پاور سیکٹر کی ڈیجیٹلائزیشن حکومتی اصلاحاتی حکمت عملی کا اہم ستون ہے۔ اس موقع پر سعودی وفد کو سمارٹ میٹرنگ اور ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر (AMI) کے نفاذ سے متعلق بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ سمارٹ میٹرنگ کے ذریعے بجلی کے تکنیکی اور تجارتی نقصانات میں نمایاں کمی لائی جا سکے گی، تقسیم کے نظام کی کارکردگی بہتر ہوگی اور صارفین کو زیادہ شفاف، مؤثر اور معیاری خدمات فراہم کرنا ممکن ہوگا۔
اویس لغاری نے سعودی انرجی ورکنگ گروپ کو پاکستان کے دورے کی باضابطہ دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات اور سرمایہ کاری کے ترجیحی منصوبوں کا خود جائزہ لیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پاکستان سعودی سرمایہ کاروں اور شراکت داروں کو ہر ممکن سہولت اور مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
ملاقات کے اختتام پر پاکستان اور سعودی عرب نے توانائی، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور مشترکہ منصوبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے، پیش رفت تیز کرنے اور پائیدار اقتصادی ترقی، توانائی کے تحفظ اور علاقائی تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔
