امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مسلسل تیسرے روز ایران میں فوجی اہداف پر حملے کیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی جانب سے بحری جہازوں پر فائرنگ کے بعد کی جا رہی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ان حملوں کا مقصد ایرانی فورسز پر "بھاری قیمت” عائد کرنا اور آبنائے ہرمز میں معصوم شہریوں اور بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی ان کی صلاحیت کو کم کرنا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی افواج خطے میں بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ اور عالمی تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے تحفظ اور نگرانی سے متعلق بیانات دیے تھے، جبکہ ایرانی عسکری قیادت نے واضح کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے معاملات میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو قبول نہیں کرے گی۔
دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے ان تازہ امریکی حملوں کے بارے میں فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، جبکہ اس حوالے سے آزاد ذرائع سے بھی امریکی دعوؤں کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور وہاں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں اور تجارتی سرگرمیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
