بیروت: لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے واضح کیا ہے کہ جب تک اسرائیلی افواج مکمل طور پر لبنانی سرزمین سے واپس نہیں چلی جاتیں، حزب اللہ اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی اور اس معاملے پر کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔
اپنے تازہ بیان میں نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ کا صبر کسی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے اور منظم لائحۂ عمل کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثابت قدمی ہی کامیابی کی ضمانت ہے اور تنظیم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ دریائے لیطانی کے شمال میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جبکہ لبنان سے اسرائیل کے مکمل انخلا سے قبل ہتھیار ڈالنے کے حوالے سے کوئی بات چیت ممکن نہیں۔
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیوں کا بنیادی مقصد حزب اللہ کا خاتمہ تھا، تاہم وہ اپنے اس مقصد میں ناکام رہا۔ ان کے مطابق لبنانی حکومت ایسے کسی فیصلے کی متحمل نہیں ہو سکتی جس سے ملک کی ایک بڑی آبادی خود کو نظر انداز محسوس کرے۔
نعیم قاسم نے کہا کہ اگر لبنانی حکومت قومی خودمختاری، آزادی اور ملکی مفادات کے تحفظ کے راستے پر گامزن رہتی ہے تو حزب اللہ اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ تاہم انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے مفادات کے بجائے لبنان کے قومی مفادات کو ترجیح دیں۔
انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی حالیہ مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ واشنگٹن اور اسرائیل کی پالیسیوں کی ناکامی کا اعتراف ہے۔ ان کے بقول ایران نے اپنی استقامت، مزاحمت اور مضبوط مؤقف کے باعث مذاکرات کے اس مرحلے تک رسائی حاصل کی۔
نعیم قاسم نے مزید کہا کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور مزاحمتی قوتوں نے ثابت کیا ہے کہ دباؤ اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے انہیں اپنے مؤقف سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔
