سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کے آغاز کے موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کی غیر معمولی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی زندگی میں دو انتہائی اہم شخصیات ہیں، جن میں ایک بھارتی اور دوسری پاکستانی ہیں۔
برگن اسٹاک میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے گفتگو کا آغاز پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی قیادت، تدبر اور سفارتی مہارت کے ذریعے اس اہم مرحلے تک پہنچنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
امریکی نائب صدر نے اس کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ اسلام آباد کے دورے پر گئے تھے تو انہوں نے مذاقاً کہا تھا کہ ان کی زندگی میں دو نہایت اہم شخصیات ہیں، جن میں ایک بھارتی اور دوسری پاکستانی ہے۔
جے ڈی وینس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی شخصیت ان کی اہلیہ ہیں، جبکہ پاکستانی شخصیت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران انہوں نے جتنا رابطہ اور مشاورت فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ کی، شاید ہی کسی اور شخصیت کے ساتھ اتنی گفتگو ہوئی ہو۔
انہوں نے کہا کہ اگر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مدبرانہ صلاحیتیں اور مسلسل سفارتی کوششیں نہ ہوتیں تو آج وہ اس مقام پر موجود نہ ہوتے جہاں امریکا اور ایران براہ راست مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہیں۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نہ صرف ایک عظیم فوجی رہنما ہیں بلکہ انہوں نے خود کو ایک بہترین اور انتہائی باصلاحیت سفارتکار بھی ثابت کیا ہے۔ ان کے بقول پوری دنیا کو ان کی کوششوں کو سراہنا چاہیے۔
اس موقع پر امریکی نائب صدر نے پاکستان کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک ذمہ دار اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔
برگن اسٹاک میں ہونے والے ان مذاکرات میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہیں۔ یہ مذاکرات اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت پاکستان اور قطر کی ثالثی میں منعقد ہو رہے ہیں۔
سفارتی حلقوں کے مطابق دو ماہ بعد امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والی یہ براہ راست بیٹھک نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے اہم ہے بلکہ خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے بھی ایک فیصلہ کن مرحلہ سمجھی جا رہی ہے۔
