Table of Contents
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے پر امریکی کانگریس کے اندر ہونے والی شدید تنقید کا کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ اس سفارتی عمل کی مخالفت کر رہے ہیں، انہیں پہلے اس حساس معاملے پر ‘تعلیم یافتہ ہونا چاہیے’۔
صدر ٹرمپ کا تنقید کرنے والوں پر جوابی وار
امریکی سینیٹ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی قرارداد کی منظوری کے بعد صدر ٹرمپ کا یہ سخت بیان سامنے آیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے ساتھ ایک پائیدار اور تاریخی امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے سخت محنت کر رہی ہے، لیکن واشنگٹن میں کچھ سیاسی عناصر محض پوائنٹ اسکورنگ کے لیے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
"پہلے حقائق کو جانیں، پھر بات کریں”
ٹرمپ نے کانگریس اراکین بالخصوص اپوزیشن اور اپنی ہی پارٹی کے باغی سینیٹرز کو ہدف بناتے ہوئے کہا کہ خطے کی سکیورٹی اور سفارت کاری انتہائی پیچیدہ امور ہیں، اور جو لوگ اس معاہدے پر تنقید کے تیر چلا رہے ہیں، انہیں مشورہ ہے کہ وہ پہلے حقائق کو پڑھیں اور اس پر ‘تعلیم یافتہ’ بنیں۔
وائٹ ہاؤس اور کانگریس میں کھچاؤ برقرار
یہ تند و تیز بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ 7 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد ایران کے ساتھ معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف امریکی کانگریس صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات (War Powers Act) کو مستقل طور پر لگام دینے کے لیے قانونی راستے اختیار کر رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کے اس بیان سے وائٹ ہاؤس اور کیپیٹل ہل (امریکی پارلیمنٹ) کے درمیان جیو پولیٹیکل فیصلوں پر پایا جانے والا خلیج مزید گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔
