واشنگٹن / سوئٹزرلینڈ: امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل کے ایک اہم مرحلے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں، جہاں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور منعقد ہونا ہے۔ امریکی نائب صدر کا کہنا ہے کہ وہ ایک یا دو روز سوئٹزرلینڈ میں قیام کریں گے اور اس دورے کا بنیادی مقصد ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق معاملات میں پیش رفت اور لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے جاری پیچیدہ مسائل کو آگے بڑھانا ہے۔
امریکی نائب صدر کی روانگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر پہلے ہی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق قطر کے نمائندے بھی مذاکراتی عمل میں شریک ہوں گے، جبکہ ایران کی جانب سے بھی اعلیٰ سطحی وفد سوئٹزرلینڈ روانہ ہو چکا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی تھی، جس کے تحت دونوں ممالک نے مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال نے اس عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
امریکی انتظامیہ کی کوشش ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو ایک جامع معاہدے کی طرف بڑھایا جائے، جس میں ایرانی جوہری پروگرام، بین الاقوامی نگرانی کے طریقہ کار، پابندیوں میں نرمی اور علاقائی سلامتی کے معاملات شامل ہوں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا اور اس کی جوہری سرگرمیوں کو عالمی نگرانی کے دائرے میں رکھنا ضروری ہے، جبکہ تہران معاشی پابندیوں میں نرمی اور اقتصادی فوائد کا خواہاں ہے۔
ذرائع کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں لبنان کی صورتحال بھی ایک اہم موضوع ہوگی۔ امریکا کی کوشش ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جائے اور لبنان میں جنگ بندی کو مؤثر بنایا جائے، کیونکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے جاری رہے تو مذاکراتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سوئٹزرلینڈ آمد کو اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ وائٹ ہاؤس اس سفارتی عمل کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی موجودگی کے ساتھ امریکی وفد مذاکرات میں فعال کردار ادا کرے گا، جبکہ قطری نمائندوں کی شمولیت بھی ثالثی کے عمل کو تقویت دینے کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والا یہ دور خطے کے مستقبل، ایران پر پابندیوں، جوہری معاہدے اور مشرق وسطیٰ میں استحکام کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے۔ اگر فریقین اختلافات کم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ پیش رفت نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات بلکہ پورے خطے کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
