لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدہ چند گھنٹے بھی برقرار نہ رہ سکا اور جنوبی لبنان ایک بار پھر شدید فوجی کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا۔ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں متعدد مقامات پر فضائی اور زمینی کارروائیاں جاری رکھیں، جبکہ حزب اللہ نے بھی اسرائیلی فوجی نقل و حرکت کو نشانہ بناتے ہوئے جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعہ کو اعلان کردہ جنگ بندی سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی تھی، تاہم یہ امید زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں نئی بمباری کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں شہادتوں کی تعداد 50 سے تجاوز کر گئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے رات کے وقت جنوبی لبنان میں تعینات اسرائیلی فوجیوں اور عسکری تنصیبات پر 50 سے زائد راکٹ اور دیگر گولے داغے، جس کے جواب میں اسرائیلی فضائیہ اور توپ خانے نے حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق کارروائیاں صرف ان مقامات تک محدود ہیں جہاں حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں، جبکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں حزب اللہ کے کمانڈرز اور ان کے معاونین شامل ہیں۔
دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیلی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے جمعہ کی سہ پہر سے جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی تھی، تاہم اسرائیلی فوج نے رات کے وقت نبطیہ کے قریب واقع علی طاہر پہاڑی کے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی۔ حزب اللہ کے مطابق اس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی فورسز کی نقل و حرکت کا پتہ چلنے کے بعد گھات لگا کر حملہ کیا اور دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
لبنانی ذرائع کے مطابق جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں بمباری اور جھڑپوں کے باعث ہزاروں شہری ایک بار پھر نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں، جبکہ امدادی ادارے زخمیوں کی مدد اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی ناکامی نہ صرف لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے بلکہ یہ مشرق وسطیٰ میں وسیع تر علاقائی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل کے تناظر میں لبنان کی صورتحال کو انتہائی حساس قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی بھی ممکنہ سفارتی پیش رفت کو متاثر کر سکتی ہے۔
بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی جانب سے دونوں فریقوں پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی اپیل کی جا رہی ہے، تاہم زمینی صورتحال اس وقت مسلسل غیر یقینی کا شکار ہے اور جنوبی لبنان ایک بار پھر ایک بڑے تصادم کے خطرے سے دوچار دکھائی دے رہا ہے۔
