اسلام آباد: پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے درمیان 700 ملین ڈالر کے پالیسی بیسڈ قرض پروگرام کے معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں، جس کا مقصد ملک کے انشورنس اور مالیاتی شعبے میں جامع اصلاحات متعارف کرانا، سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانا اور مالیاتی نظام کو مزید مستحکم بنانا ہے۔
اقتصادی امور ڈویژن کے ترجمان کے مطابق یہ مالی معاونت "انشورنس ٹرانسفارمیشن پروگرام” کے ذیلی پروگرام (SP-1) کے تحت فراہم کی جائے گی، جس کے ذریعے پاکستان میں انشورنس سیکٹر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے، مسابقتی ماحول پیدا کرنے اور صارفین کے تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق مجموعی 700 ملین ڈالر میں سے 250 ملین ڈالر رعایتی شرائط کے تحت فراہم کیے جائیں گے، جس سے پاکستان کو نسبتاً کم مالی بوجھ کے ساتھ اصلاحاتی پروگرام پر عمل درآمد میں سہولت حاصل ہوگی۔
اس معاہدے پر پاکستان کی جانب سے سیکریٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر حسین حیدر نے دستخط کیے۔ اس موقع پر سیکریٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم نے ایشیائی ترقیاتی بینک کو پاکستان کا ایک قابل اعتماد اور دیرینہ ترقیاتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام مالیاتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ انشورنس ٹرانسفارمیشن پروگرام کا مقصد نہ صرف انشورنس انڈسٹری کی ترقی کو فروغ دینا ہے بلکہ ملک میں مالیاتی شمولیت، معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی بہتر بنانا ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ حکومت کے "اڑان پاکستان” وژن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے پانچ سالہ روڈ میپ سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔
محمد حمیر کریم کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام قومی مالیاتی شمولیت کی حکمت عملی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق قومی پالیسی کے اہداف کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے، جس کے ذریعے مختلف طبقات کو مالی تحفظ اور انشورنس سہولیات تک بہتر رسائی فراہم کی جا سکے گی۔
دوسری جانب ایشیائی ترقیاتی بینک کے ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر حسین حیدر نے اس پروگرام کو انشورنس سیکٹر کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نئی انشورنس کمپنیوں کے لیے مارکیٹ میں داخلے کے مواقع بڑھیں گے اور مسابقتی ماحول پیدا ہوگا، جس کے نتیجے میں صارفین کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت سرکاری اثاثوں کے بیمہ میں نجی انشورنس کمپنیوں کی شمولیت کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ ریگولیٹری فریم ورک کو مزید مضبوط بنا کر صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں انشورنس سیکٹر کی ترقی ملکی مالیاتی نظام کو مستحکم بنانے کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں کے تحفظ اور معاشی خطرات کے انتظام میں کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے شروع ہونے والا یہ پروگرام پاکستان میں انشورنس انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عالمی معیار کے مطابق بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

