تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی، تاہم تہران اس کا جواب اسی انداز میں نہیں دے گا۔
اپنے بیان میں صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران ایسے افراد کی پالیسی اختیار نہیں کرے گا جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری، وقار اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قیمت پر بھرپور دفاع کرے گا۔
ایرانی صدر نے زور دیا کہ تہران اپنی خارجہ پالیسی میں تحمل، وقار اور قومی مفادات کو ترجیح دیتا ہے، لیکن کسی بھی دباؤ یا جارحیت کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی مہم جوئی کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھانے والے تمام ممالک کے اقتصادی اور تجارتی مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ امریکی اقدامات آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار دوبارہ کھولنے کے عمل میں سنگین رکاوٹ پیدا کریں گے۔ ان کے مطابق غیر ملکی طاقتوں کا اس اہم بحری گزرگاہ میں نہ کوئی قانونی حق ہے اور نہ ہی کوئی جائز مفاد۔
ایرانی حکام کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات اور اقدامات کر رہے ہیں۔
