Table of Contents
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے سمندری آمدورفت پر کنٹرول بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق کمیٹی نے مجوزہ قانون کے آرٹیکل 3 کی منظوری دی۔ اس قانون کا مقصد آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اور ترقی کے لیے ایک نیا فریم ورک قائم کرنا ہے۔
کن خدمات پر فیس وصول ہوگی؟
ایرانی حکام کے مطابق فیس مختلف خدمات کے عوض وصول کی جائے گی۔ ان میں جہازوں کو فراہم کی جانے والی نیویگیشن، ایندھن، انشورنس اور سیکیورٹی خدمات شامل ہیں۔
دیگر متعلقہ خدمات پر بھی فیس عائد کی جا سکتی ہے۔ یہ فیس ان ممالک کے جہازوں سے وصول ہوگی جنہیں ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی کے مطابق فیس ایرانی ریال میں وصول کی جا سکتی ہے۔ ایران کی جانب سے مقرر کردہ دیگر کرنسیوں میں بھی ادائیگی ممکن ہوگی۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ یہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔
حالیہ کشیدگی کے باعث اس راستے سے بحری آمدورفت میں شدید کمی آئی ہے۔ ایران نے بعض جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے، جبکہ دیگر جہازوں کی آمدورفت محدود رہی ہے۔
ایران کی جانب سے فیس کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے مستقبل اور سمندری آمدورفت کے طریقہ کار پر بھی کشیدگی جاری ہے۔
عالمی تجارت پر ممکنہ اثرات
آبنائے ہرمز سے تیل اور ایل این جی کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں طویل رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
ایران کی نئی فیس پالیسی سے جہاز رانی کی لاگت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کتنے تجارتی جہاز ایران کی مقرر کردہ شرائط کے تحت اس راستے سے گزرتے ہیں۔
