Table of Contents
دنیا بھر کے 21 سابق ٹیسٹ اور بین الاقوامی کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک بار پھر خط لکھا ہے۔ سابق کپتانوں نے عمران خان کے طبی معائنے اور مناسب علاج کا مطالبہ کیا ہے۔
کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق سابق کپتانوں نے عمران خان کی صحت پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
سابق کپتانوں نے عمران خان کے لیے کیا مطالبات کیے؟
خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت نے خصوصی میڈیکل بورڈ بنانے کا بھی حکم دیا تھا۔
سابق کپتانوں کے مطابق بورڈ میں عمران خان کے ذاتی معالجین شامل ہونے تھے۔ ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی بورڈ کا حصہ بنایا جانا تھا۔
عدالت نے ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں بحال کرنے کی بھی ہدایت کی تھی۔ سابق کپتانوں نے ان احکامات پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
اسپتال میں قیام پر تشویش
خط میں عمران خان کے اسپتال میں قیام پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ سابق کپتانوں کے مطابق وہ صرف چند گھنٹے اسپتال میں رہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق میڈیکل بورڈ نے معائنہ نہیں کیا۔ اس کے بجائے سرکاری طور پر مقرر کردہ ٹیم نے عمران خان کا معائنہ کیا۔
اس ٹیم نے عمران خان کو طبی طور پر فٹ قرار دیا۔ اس کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔
دائیں آنکھ کے معائنے کا مطالبہ
سابق کپتانوں نے عمران خان کے مکمل طبی معائنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ان کی دائیں آنکھ کا معائنہ کرنے پر زور دیا ہے۔
خط میں دائیں آنکھ کی مبینہ بینائی میں کمی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ سابق کپتانوں نے آزاد میڈیکل بورڈ سے معائنہ کرانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے طبی معائنے کی بنیاد پر مناسب علاج فراہم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں بحال رکھنے کا مطالبہ
سابق کپتانوں نے عمران خان کی ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ملاقاتیں بلا تعطل ہونی چاہئیں۔
انہوں نے طبی ماہرین کی سفارشات پر فوری عمل کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
خط پر کن سابق کپتانوں کے دستخط ہیں؟
خط پر مختلف ممالک کے 21 سابق کپتانوں نے دستخط کیے ہیں۔
دستخط کرنے والوں میں مائیکل ایتھرٹن، ایلکس بلیک ویل اور ایلن بارڈر شامل ہیں۔ مائیکل بریرلی، گریگ چیپل اور ایان چیپل بھی خط کا حصہ ہیں۔
بیلنڈا کلارک، ایلسٹر کک، مائیکل گیٹنگ اور سنیل گواسکر نے بھی دستخط کیے ہیں۔ لی جرمن، ایڈم گلکرسٹ، ڈیوڈ گاور اور کم ہیوز بھی شامل ہیں۔
ناصر حسین، کلائیو لائیڈ، کپل دیو اور ارجنا راناٹنگا نے بھی خط پر دستخط کیے۔ اینڈریو اسٹراس، دلیپ وینگسرکر، اسٹیو وا اور جان رائٹ بھی دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔
تازہ رپورٹ کے مطابق ان سابق کپتانوں کا تعلق نو مختلف کرکٹ ممالک سے ہے۔
سابق کپتانوں کا سیاسی مؤقف
سابق کپتانوں نے خط میں اپنے مؤقف کی وضاحت بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیاستدانوں کی حیثیت سے اپیل نہیں کر رہے۔
ان کے مطابق وہ کرکٹ کے میدان میں عمران خان کے ساتھی اور حریف رہے ہیں۔ اسی حیثیت سے وہ ان کی صحت کے بارے میں آواز اٹھا رہے ہیں۔
سابق کپتانوں نے پاکستان کے داخلی قانونی معاملات میں مداخلت سے بھی انکار کیا ہے۔
وزیراعظم کو چھ ماہ میں دوسرا خط
یہ سابق عالمی کپتانوں کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو دوسرا خط ہے۔ اس سے قبل بھی سابق کپتان عمران خان کی صحت پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔
رواں سال فروری میں 14 سابق کپتانوں نے ایسا خط لکھا تھا۔ اس خط میں عمران خان کی صحت اور ایک آنکھ کی مبینہ بینائی متاثر ہونے پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔
