Table of Contents
جرمنی نے اسرائیل کے حامی یہودی شخصیات کو قتل کرنے کی مبینہ سازش پر ایرانی سفیر کو طلب کرلیا۔ جرمن حکومت نے اس معاملے پر سخت احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے۔
جرمن وزارت خارجہ کے مطابق، ایران سے وابستہ دو افراد نے ملک میں یہودی شخصیات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ حکام نے مبینہ منصوبہ بروقت ناکام بنا دیا۔ وزارت کے مطابق، اس طرح ملک ایک بڑے نقصان سے بچ گیا۔
ہیمبرگ کی عدالت نے دو افراد کو سزا سنادی
جرمن وزارت خارجہ نے بتایا کہ ہیمبرگ کی عدالت کی جانب سے دونوں افراد کو سزا سنائے جانے کے بعد ایرانی سفیر کو طلب کیا گیا۔ ان افراد کو قاتلانہ حملوں کی منصوبہ بندی کے مقدمے میں سزا سنائی گئی۔
جرمن حکام کے مطابق، دونوں افراد مبینہ طور پر ایرانی انٹیلی جنس حکام کی ہدایات پر کام کررہے تھے۔ جرمنی نے اسی بنیاد پر ایرانی سفیر کے سامنے شدید احتجاج کیا۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ جرمنی کے آزاد معاشرے کو دھمکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بیان میں یہودی برادری کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا۔
یہودی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا الزام
جمعرات کو عدالت نے ڈنمارک اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے دو شہریوں کو مجرم قرار دیا تھا۔ ان پر جرمنی میں یہودی برادری کی نمائندگی کرنے والی مرکزی تنظیم کے سربراہ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔
ملزمان پر جرمن اسرائیلی سوسائٹی کے سربراہ کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ استغاثہ کے مطابق، یہ کارروائی اسرائیل کے حامی اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کے مبینہ منصوبے کا حصہ تھی۔
جرمن حکام کا الزام ہے کہ اس منصوبہ بندی کے پیچھے ایران کی ہدایات تھیں۔ تاہم، ان الزامات کی تفصیلات کو عدالتی کارروائی اور استغاثہ کے مؤقف کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
القدس فورس کی مبینہ ہدایات کا ذکر
جرمن استغاثہ کے مطابق، ڈنمارک کے شہری علی ایس کو ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی القدس فورس کی جانب سے ہدایات ملتی تھیں۔ القدس فورس پاسدارانِ انقلاب کا وہ شعبہ ہے جو بیرونِ ملک کارروائیوں سے متعلق سرگرمیوں کے لیے جانا جاتا ہے۔
جرمن وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ یہودیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ بیان میں یہودی برادری کے دفاع میں آواز اٹھانے والوں کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا۔
جرمنی کے مطابق، یہودیوں یا ان کے دفاع میں آواز اٹھانے والوں پر حملے کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے، خواہ ایسے واقعات دنیا کے کسی بھی حصے میں پیش آئیں۔
