Table of Contents
یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب میں مزید حملوں کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے اور تیل کی تنصیبات ان کے ممکنہ اہداف ہیں۔
یہ اعلان سعودی آرامکو کے ہیڈ کوارٹر کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات کے ایک روز بعد سامنے آیا۔ تاہم، نقصان کی نوعیت کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔
حوثیوں نے ان کارروائیوں کو یمن پر سعودی حملوں کا جواب قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ریاض ایئرپورٹ پر میزائل حملے کا دعویٰ
یمنی مسلح افواج کے ترجمان جنرل یحییٰ سریع نے ٹیلی گرام پر بیان جاری کیا۔ انہوں نے ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
ترجمان کے مطابق، حوثی فورسز نے ہوائی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میزائل براہِ راست ہدف پر لگا۔
اس حملے کی آزاد ذرائع سے تصدیق فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں۔
تین میزائلوں سے فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
جنرل یحییٰ سریع نے ایک دوسری کارروائی کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، سعودی افواج کے کئی مراکز پر تین بیلسٹک میزائل داغے گئے۔
ترجمان نے ان مقامات کے نام راس العارہ اور المضریبہ بتائے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حملوں میں بڑی تعداد میں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کئی فوجی گاڑیاں بھی ناکارہ ہو گئیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔
خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ
حوثیوں نے اپنی کارروائیوں کو یمن پر سعودی حملوں کا ردعمل قرار دیا۔ ان کی دھمکیوں سے علاقائی سلامتی کے بارے میں خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
خلیج میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بھی برقرار ہے۔ ایسے حالات میں مزید حملے خطے کی صورت حال کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
سعودی عرب کی جانب سے ممکنہ ردعمل کی تفصیلات فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں۔
