Table of Contents
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ بندی فوری طور پر مؤثر ہوگی۔ تاہم، روس کی جانب سے اس معاہدے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک اس اقدام پر متفق ہو گئے ہیں۔ اعلان میں جنگ بندی کی مدت اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
توانائی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کی تجویز
مجوزہ جنگ بندی کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کی توانائی تنصیبات پر حملے روکیں گے۔ اس میں بجلی گھر، بجلی کی ترسیل کا نظام اور توانائی کا دیگر بنیادی ڈھانچہ شامل ہے۔
اس اقدام کا مقصد توانائی کے نظام کو حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ اس سے شہریوں کو بجلی اور دیگر توانائی کی فراہمی برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم، جنگ بندی کے نفاذ اور نگرانی کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔
زیلینسکی کا مشروط خیرمقدم
یوکرین کے صدر ولادومیر زیلینسکی نے جنگ بندی کے اعلان پر ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر روس توانائی تنصیبات پر حملے روک دے تو یوکرین بھی ایسا کرنے کے لیے تیار ہے۔
زیلینسکی کے مطابق، انہیں اس معاہدے کی تفصیلات سے پہلے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے اس معاملے پر اتفاق کیا ہے تو جنگ بندی کے آغاز کی تاریخ واضح کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین جنگ بندی پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔ تاہم، اس کے لیے روس کی جانب سے بھی رضامندی ضروری ہے۔
ماسکو کی تصدیق کا انتظار
روسی حکومت کی جانب سے ٹرمپ کے اعلان کی فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے یہ واضح نہیں کہ دونوں ممالک نے باقاعدہ طور پر جنگ بندی قبول کر لی ہے یا نہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق، اعلان کے بعد بھی یوکرین میں توانائی تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس صورت حال میں جنگ بندی پر عمل درآمد کے بارے میں غیر یقینی برقرار ہے۔
اب توجہ ماسکو کے باضابطہ ردعمل اور دونوں ممالک کے عملی اقدامات پر مرکوز ہے۔
