Table of Contents
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے بعد اپنے پہلے دورے پر تہران پہنچ گئے ہیں۔ وہ ایرانی صدر مسعود پزیشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے۔
روسی خبر رساں اداروں کے مطابق، لاوروف اتوار کو بحرین میں خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتوں کے بعد پیر کو تہران پہنچے۔
جنگ کے خاتمے اور علاقائی کشیدگی پر بات چیت
روسی وزیر خارجہ کے دورۂ ایران کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کا جائزہ لینا ہے۔ ملاقاتوں میں علاقائی کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ دورے میں علاقائی اور عالمی صورتِ حال زیرِ بحث آئے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق، دونوں فریق تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری پر بھی بات کریں گے۔ نقل و حمل کے شعبے میں مشترکہ منصوبے بھی مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔
خلیجی ممالک کا روس سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ
بحرین میں خلیج تعاون کونسل کے اجلاس کے دوران خلیجی ممالک نے روس سے اہم مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے ماسکو پر زور دیا کہ وہ ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔
خلیجی ممالک چاہتے ہیں کہ روس خطے میں حملے رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے بھی روس سے تعاون کا مطالبہ کیا۔
لاوروف کا تہران کا دورہ اسی علاقائی صورتِ حال میں ہورہا ہے۔ روس اور خلیجی ممالک کے درمیان اس معاملے پر ہونے والی بات چیت بھی اہمیت رکھتی ہے۔
پیوٹن کی ثالثی کی پیشکش
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن رواں ماہ ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کو یقین دہانی کرا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ماسکو جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں حصہ لینے کو تیار ہے۔
لاوروف کا دورہ روس کی سفارتی کوششوں میں اضافے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ تاہم، مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی سے متعلق فوری پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا۔
