Table of Contents
پشاور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں اہم قومی معاملات پر مشترکہ موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت حکومت کی خواہاں نہیں اور اصولی مؤقف پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
پشاور میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آئین میں قرآن و سنت کے منافی قانون سازی کی اجازت نہیں۔ ان کے مطابق حکمران آئین پر عمل درآمد نہیں کرتے تو یہ ان کی کوتاہی ہے۔
مولانا فضل الرحمن کا دفاعی طاقت پر مؤقف
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان کی مضبوط دفاعی قوت ملک اور ریاست کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت دفاعی طاقت کے حصول کی مخالف نہیں۔
ان کے مطابق طاقت حاصل کرنا اور طاقت کا استعمال کرنا دو الگ معاملات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی صلاحیت کا مقصد ملک کا تحفظ ہونا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمن نے یہ بھی کہا کہ اگر سیاسی کارکن فوج کی حدود میں مداخلت نہیں کرسکتا تو فوج کو بھی سیاست میں مداخلت کا حق نہیں ہونا چاہیے۔
پارلیمنٹ کے اختیارات پر اعتراض
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے حالیہ قانون سازی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض نئی ترامیم آئین سے متصادم دکھائی دیتی ہیں۔
ان کے مطابق پارلیمنٹ کے بعض اختیارات ایک مقتدر فرد کو منتقل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمانڈ اور کنٹرول کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہونا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ان کی جماعت اصولی اختلاف کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی کو گالی نہیں دے رہے۔
اپوزیشن کو مشترکہ موقف اپنانے کی اپیل
مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ انہوں نے اپوزیشن لیڈر سے ملاقات میں بھی مشترکہ نکات پر اتحاد کی بات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو مشترکہ موقف اختیار کرنا چاہیے۔ اس طرح بعض خرابیوں کو روکا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اس معاملے پر ملاقاتیں بھی جاری ہیں۔
نئے صوبوں کی تجویز پر تحفظات
مولانا فضل الرحمن نے نئے صوبوں کے قیام کی تجاویز پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں پہلے ہی بدامنی کے مسائل موجود ہیں۔
ان کے مطابق موجودہ حالات میں صوبوں کی تقسیم مناسب نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نئے صوبوں کی تجویز کے پیچھے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کے مقاصد ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق صوبوں کے مالی حقوق کو متاثر کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صورتحال
مولانا فضل الرحمن نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں شاہراہیں غیر محفوظ ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان میں حکومت کی رٹ کے حوالے سے بھی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کشمیر کی صورتحال کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں طویل عرصے سے احتجاج جاری ہے اور حکومت کو مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کرنی چاہیے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے تعاون کا خیر مقدم
مولانا فضل الرحمن نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تعاون کو بھی سراہا۔
انہوں نے اسے اسلامی دنیا کے درمیان تعاون بڑھانے کی جانب ایک قدم قرار دیا۔ ان کے مطابق اسلامی ممالک کو عالمی معاملات میں اپنا کردار مزید مضبوط کرنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمن کا اسرائیل پر بھی تنقید
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے غزہ کی صورتحال پر بھی بات کی۔ انہوں نے اسرائیلی کارروائیوں پر عالمی ردعمل کو ناکافی قرار دیا۔
ان کے مطابق مغربی ممالک اعتدال پسندی کی بات کرتے ہیں۔ تاہم فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں پر مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے۔
حکومت کے لالچ کا الزام مسترد
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ان کی جماعت حکومت کی خواہش نہیں رکھتی۔
انہوں نے کہا کہ "ہم حکومت کے بھوکے نہیں” اور کسی حکومتی عہدے کے لالچ میں اصولی مؤقف تبدیل نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں جبر کا ماحول ختم ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی معاملات آئین، قانون اور پارلیمانی اصولوں کے مطابق چلنے چاہئیں۔
