کرائسٹ چرچ: مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل اور ممتاز سعودی عالم شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں واقع النور مسجد کا دورہ کیا، جہاں 15 مارچ 2019 کو ہونے والے دہشت گرد حملے میں درجنوں نمازی شہید ہوئے تھے۔
دورے کے دوران شیخ محمد العیسیٰ نے حملے میں زندہ بچ جانے والے افراد، شہداء کے اہل خانہ اور مقامی مسلم کمیونٹی سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ مسلم ورلڈ لیگ دنیا بھر میں انتہاپسندی، نفرت انگیز نظریات اور مذہبی تعصب کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی، جبکہ رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی، بقائے باہمی اور امن کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مزید مضبوط بنائے گی۔
یاد رہے کہ 15 مارچ 2019 کو کرائسٹ چرچ کی النور مسجد اور لن ووڈ اسلامک سینٹر پر ایک مسلح حملہ آور نے نمازِ جمعہ کے دوران فائرنگ کی تھی، جس میں مجموعی طور پر 51 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کو نیوزی لینڈ کی تاریخ کے بدترین دہشت گرد حملوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
النور مسجد کی انتظامیہ نے شیخ محمد العیسیٰ کو مسجد میں نمازیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور تعلیمی و مکالماتی سرگرمیوں کے لیے مزید جگہ کی ضرورت سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر مسلم ورلڈ لیگ کے سربراہ نے یقین دہانی کرائی کہ قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد لیگ مسجد کی توسیع اور ضروری تعمیراتی منصوبوں میں تعاون کرے گی۔
شیخ محمد العیسیٰ کے دورۂ نیوزی لینڈ کے دوران انہوں نے آکلینڈ میں زیرِ تعمیر اسلامی مرکز کا بھی معائنہ کیا، جہاں "امن کے زیتون کے درخت” کی شجرکاری کی تقریب میں شرکت کی۔ اس سے قبل انہوں نے جامع مسجد المصطفیٰ اور الرحمٰن مسجد کا بھی دورہ کیا، مقامی مسلم تنظیموں کے نمائندوں، علما اور طلبہ سے ملاقاتیں کیں اور الرحمٰن مسجد میں افتتاحی خطبہ بھی دیا۔
مسلم ورلڈ لیگ کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مقصد نیوزی لینڈ کی مسلم برادری سے اظہارِ یکجہتی، مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور نفرت و انتہاپسندی کے خلاف عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کو تقویت دینا ہے۔

