Table of Contents
چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی سب کے لیے اہم ہے۔ مکہ معاہدے سے کسی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے کو وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کے اثرات خطے کی صورتحال پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
مکہ معاہدے کے اثرات
حافظ طاہر محمود اشرفی نے دعویٰ کیا کہ دفاعی معاہدے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اب گریٹر اسرائیل کا نعرہ نہیں لگا رہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ایران کو پہلے ہی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس یقین دہانی کے مطابق سعودی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔
طاہر اشرفی کے مطابق مکہ معاہدے کا مقصد کسی ملک کے خلاف محاذ بنانا نہیں ہے۔ انہوں نے اسے امت مسلمہ کے وسیع تر مفاد کے تناظر میں دیکھنے پر زور دیا۔
معاشی استحکام پر بھی زور
چیئرمین پاکستان علما کونسل نے کہا کہ شاہ سلمان کی سوچ امت کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اسی لیے مکہ معاہدے کو صرف دفاعی معاہدے تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول اس معاہدے کے اثرات کو بڑے کینوس پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
دیگر ممالک کی شمولیت
حافظ طاہر محمود اشرفی نے مزید کہا کہ دیگر ممالک بھی مکہ معاہدے میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔
ان کے مطابق اس پیش رفت سے اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی اور خطے کے امن کو اہم قرار دیا۔
