Table of Contents
روم: پوپ لیو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کے خلاف جاری تشدد ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر بھی فوری اقدامات پر زور دیا۔ پوپ نے کہا کہ خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے دو ریاستی حل کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔
پوپ لیو نے یہ بیان روم کے باہر واقع کیسٹیل گینڈولفو میں اتوار کی دوپہر کی نماز کے بعد دیا۔
پوپ لیو نے عالمی برادری سے اقدام کا مطالبہ کیا
پوپ نے مغربی کنارے میں فلسطینی آبادی کے خلاف مسلسل تشدد پر تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو فوری طور پر کارروائی کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے منصفانہ اور دیرپا امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
پوپ نے اپنے بیان میں کسی مخصوص حملے یا جھڑپ کا نام نہیں لیا۔
قصرا میں کشیدگی برقرار
پوپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی کنارے کے قصرا گاؤں میں کشیدگی کی اطلاعات ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی آباد کاروں نے فلسطینی گھروں کا گھیراؤ کیا۔ پانی اور بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
حقوق کی تنظیموں نے ان اقدامات کو فلسطینیوں کی زمین پر قبضے کی کوششوں سے جوڑا ہے۔
دو ریاستی حل کی حمایت
ویٹیکن طویل عرصے سے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا رہا ہے۔
اس تصور کے تحت ایک آزاد فلسطینی ریاست کو اسرائیل کے ساتھ امن سے قائم کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ فلسطینی قیادت مشرقی یروشلم سمیت غزہ اور مغربی کنارے کو اپنی ریاست کا حصہ قرار دیتی ہے۔
دنیا کے بیشتر ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت نے مغربی کنارے میں آبادکاری کی پالیسی جاری رکھی ہے۔
اسرائیلی وزیر خزانہ بیزیل سموٹریچ بھی مغربی کنارے میں آبادکاری کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کی ہے۔
اقوام متحدہ اور بیشتر حکومتیں مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہیں۔
اسرائیل اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے۔ اسرائیلی حکومت مغربی کنارے کو مقبوضہ علاقے کے بجائے متنازع خطہ قرار دیتی ہے۔
1967 سے جاری تنازع
اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے دوران مغربی کنارے پر قبضہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ علاقہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔
پوپ لیو کی تازہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد اور آبادکاری کے معاملے پر عالمی سطح پر تشویش برقرار ہے۔
