Table of Contents
سیول: جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے شمالی کوریا کو کئی دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات کی پیشکش کردی ہے۔
صدر لی نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کو دھمکیاں دینا بند کریں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے باقاعدہ امن معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر لی نے یہ پیشکش کوریا کی جاپانی نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی کی سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کی۔
صدر لی کی براہِ راست مذاکرات کی دعوت
جنوبی کوریا کے صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف دھمکی آمیز رویہ ترک کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق سیول اور پیانگ یانگ کو براہِ راست مذاکرات شروع کرنے چاہئیں۔ اس عمل کا مقصد کئی دہائیوں سے جاری جنگ کو باضابطہ طور پر ختم کرنا ہونا چاہیے۔
دونوں کوریا تکنیکی طور پر اب بھی حالت جنگ میں ہیں۔ 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ مکمل امن معاہدے کے بجائے جنگ بندی پر ختم ہوئی تھی۔
جوہری پروگرام پر بھی بات چیت کی پیشکش
صدر لی نے کہا کہ مذاکرات میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کی مزید توسیع روکنے کے طریقوں پر بھی بات ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بات چیت کا مقصد جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کم کرنا ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بھی قائم کی جانی چاہیے۔
شمالی کوریا کا سخت مؤقف
جنوبی کوریا کی یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شمالی کوریا امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کی مخالفت کر رہا ہے۔
پیانگ یانگ نے خبردار کیا ہے کہ ایسی مشقوں کے جواب میں وہ اپنی دفاعی اور جوہری صلاحیتیں مزید مضبوط کرسکتا ہے۔
شمالی کوریا جاپان کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیتوں پر بھی اعتراض کرتا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں پیانگ یانگ نے جاپان کی دفاعی پالیسی میں تبدیلیوں کے پس منظر میں میزائل تجربات بھی کیے ہیں۔
شمالی کوریا جوہری طاقت سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں
2019 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی ہنوئی سربراہی ملاقات ناکام ہوگئی تھی۔
اس کے بعد پیانگ یانگ نے خود کو ایک ’’ناقابل واپسی‘‘ جوہری ریاست قرار دیا۔ شمالی کوریا کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی جوہری صلاحیت سے دستبردار نہیں ہوگا۔
صدر لی نے گزشتہ سال اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پیش رو کے مقابلے میں شمالی کوریا کے لیے نسبتاً نرم پالیسی اپنائی ہے۔
انہوں نے پیانگ یانگ کو متعدد بار بغیر پیشگی شرط کے مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ تاہم شمالی کوریا نے اب تک ان پیشکشوں کا مثبت جواب نہیں دیا۔
سیول کی جوہری پالیسی میں تبدیلی
جنوبی کوریا کے وزیر برائے اتحاد نے گزشتہ ماہ بھی سیول کی نئی پالیسی کی وضاحت کی تھی۔
ان کے مطابق جنوبی کوریا شمالی کوریا پر جوہری ہتھیار ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے بجائے اس پروگرام کی مزید توسیع روکنے پر توجہ دے رہا ہے۔
یہ پالیسی دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کا حصہ ہے۔
روس اور شمالی کوریا کے بڑھتے تعلقات
دوسری جانب شمالی کوریا نے روس کے ساتھ اپنے فوجی تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پیانگ یانگ کو روس سے مالی معاونت، خوراک، توانائی اور فوجی ٹیکنالوجی ملنے کی اطلاعات ہیں۔
یہ تعاون یوکرین جنگ میں شمالی کوریا کی جانب سے روس کو فوجیوں اور جنگی سازوسامان کی فراہمی کے بدلے میں ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے رواں سال روس کا دورہ کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس دوران دونوں ممالک کے فوجی تعاون پر بات ہوسکتی ہے۔
امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں
امریکا جنوبی کوریا کا اہم سیکیورٹی اتحادی ہے۔ تقریباً 28,500 امریکی فوجی جنوبی کوریا میں تعینات ہیں۔
ان فوجیوں کا مقصد شمالی کوریا سے ممکنہ فوجی خطرات کے مقابلے میں جنوبی کوریا کے دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔
امریکا اور جنوبی کوریا کی 11 روزہ مشترکہ فوجی مشقیں بھی پیر سے شروع ہونے والی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق مشقوں میں شمالی کوریا کی بدلتی ہوئی فوجی صلاحیتوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔ یوکرین جنگ سے شمالی کوریا کی فوج کو حاصل ہونے والے ممکنہ جنگی تجربات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
یوں صدر لی جے میونگ کی مذاکرات کی تازہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جزیرہ نما کوریا میں سفارتی کوششوں کے ساتھ فوجی کشیدگی بھی برقرار ہے۔
