رپورٹ: سید فرزند علی
وزیراعظم کے مشیر، پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر اور پاکستان علمائ کونسل کے چئیرمین حافظ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ ملک بھر کی مساجد اور مدارس میں “معرکۂ حق” کے حوالے سے خصوصی پروگرام منعقد کیے گئے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز ختم نبوت ہربنس پورہ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر علمائ کی کثیر تعداد بھی موجود تھی چیئرمین پاکستان اور وزیراعظم کی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ طاہر اشرفی نے ایران کے خلاف جارحیت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے اور علی خامنہ ای کی شہادت ناقابلِ قبول ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے بھی گزشتہ رات اعتراف کیا کہ پاکستان کے کہنے پر جنگ روکی گئی۔ ان کے مطابق “معرکۂ حق” کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر عزت اور اہمیت حاصل ہوئی ہے اور جو ممالک پہلے پاکستان کو دہشتگردی سے جوڑتے تھے، اب اسلام آباد کو امن کا مرکز قرار دے رہے ہیں۔
طاہر اشرفی کا مزید کہنا تھا کہ معروف مذہبی شخصیت مولانا ادریس کو نشانہ بنایا گیا جبکہ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین سے سازشوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
انہوں نے دہشتگردی کے حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی شہداء کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے اچھے اقدامات کی تعریف اور غلط فیصلوں پر تنقید کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بنوں میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کے شہداء کے جنازوں میں وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومت کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوا، وزیراعظم کو اعلان کرنا چاہیے کہ جہاں بھی شہداء ہوں وہاں سینئر حکومتی قیادت جنازوں میں شرکت کرے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے اپیل کرتے ہوئے طاہر اشرفی نے کہا کہ صوبے میں روزانہ لاشیں آ رہی ہیں، صورتحال پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کا وفد جلد خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا دورہ کرے گا۔ بھارت سے مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے تمام راستے کشمیر سے ہو کر گزرتے ہیں اور کشمیر کو نظر انداز کر کے کسی بامعنی مذاکراتی عمل کی کامیابی ممکن نہیں۔
طاہر اشرفی نے سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے غیر اخلاقی رویوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدتمیزی کے کلچر کو فروغ دینے والوں کو اب خود بھی اس کے نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
