رپورٹ: سید فرزند علی (لاہور)
پاکستان کیتھولک بشپ کانفرنس سے وابستہ بشپس نے ویٹیکن کے اپنے “ایڈ لیمینا اپوسٹولورم” دورے کے دوران پاکستان میں مسیحی برادری کو درپیش مشکلات اور مستقبل کی امیدوں پر روشنی ڈالی۔
پاکستان کیتھولک بشپ کانفرنس کے صدر اور حیدرآباد کے بشپ شکردین نے کہا کہ یہ دورہ پاکستانی بشپوں کے لیے روحانی تقویت اور نئی امید کا باعث بنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بشپس نے ویٹیکن کے مختلف اداروں کو پاکستان میں چرچ کی صورتحال پر رپورٹس پیش کیں، جن پر مثبت ردعمل ملا۔ ان کے مطابق اس دورے نے مستقبل کے لیے نئی بصیرت اور حوصلہ فراہم کیا ہے۔
بشپ شکردین نے کہا کہ پاکستان میں چرچ کو کئی بڑے چیلنجز درپیش ہیں، جن میں مذہبی امتیاز، توہین مذہب کے الزامات، جبری تبدیلی مذہب اور مسیحیوں کے مساوی حقوق کا مسئلہ شامل ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بہت سے مسیحیوں کو برابر کے حقوق حاصل نہیں اور بعض اوقات انہیں اپنے عقائد کی وجہ سے سماجی دباؤ اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بشپ شکردین کے مطابق پاکستانی مسیحی برادری معاشی مشکلات اور محدود تعلیمی مواقع کے باوجود اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہمارے لوگ غریب ضرور ہیں لیکن محنتی اور ایمان میں مضبوط ہیں۔”
انہوں نے توہین مذہب کے مقدمات اور جبری تبدیلی مذہب کے واقعات کو بھی ایک سنگین مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ چرچ ان مشکلات کے باوجود امید کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
