اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے ایک تازہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکی معاہدے کے بعد اسرائیلی عوام کی ایک بڑی تعداد صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اعتماد کھو بیٹھی ہے، جبکہ صرف 11 فیصد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ میں اسرائیل کامیاب رہا۔
سروے کے مطابق 71 فیصد اسرائیلیوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر اعتماد نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ صرف 13 فیصد نے ٹرمپ پر اعتماد کا اظہار کیا جبکہ 16 فیصد نے اس بارے میں کوئی رائے نہیں دی۔
یہ اعداد و شمار گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں ٹرمپ کے لیے حمایت میں مزید کمی ظاہر کرتے ہیں، جب 62 فیصد اسرائیلیوں نے عدم اعتماد جبکہ 21 فیصد نے اعتماد کا اظہار کیا تھا۔
سروے میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی کارکردگی کے حوالے سے بھی سوال کیا گیا۔ 52 فیصد شرکاء کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کے طرز عمل نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے میں اسرائیلی مفادات کو نقصان پہنچایا، جبکہ 24 فیصد نے کہا کہ ان کی پالیسیوں سے اسرائیل کو فائدہ ہوا۔ اتنی ہی تعداد میں لوگوں نے اس حوالے سے کوئی واضح رائے نہیں دی۔
ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے نتائج کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں 43 فیصد اسرائیلیوں نے کہا کہ اسرائیل جنگ ہار گیا، جبکہ 41 فیصد کے مطابق جنگ کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہوئی۔ صرف 11 فیصد اسرائیلیوں نے اسے اسرائیل کی فتح قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج اسرائیل میں ایران کے ساتھ امریکی مفاہمت کی یادداشت اور واشنگٹن و تل ابیب کے درمیان حالیہ اختلافات پر بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے اسرائیلی قیادت پر کی جانے والی کھلی تنقید نے دونوں اتحادیوں کے تعلقات میں تناؤ کے تاثر کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ برسوں سے اسرائیلی عوام میں ٹرمپ کو غیر معمولی حمایت حاصل رہی، تاہم ایران معاہدے اور اسرائیلی حکام پر امریکی تنقید کے بعد عوامی رائے میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
