بیروت/دمشق: لبنان کی ایران نواز تنظیم حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے شام کی نئی قیادت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اہم پالیسی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں شامی قیادت سے ملاقات پر کوئی اعتراض نہیں اور مناسب وقت آنے پر دونوں فریقوں کے درمیان باضابطہ ملاقات ہو سکتی ہے۔
ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ شام کے ساتھ مثبت، برادرانہ اور باہمی تعاون پر مبنی تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے۔
ان کے مطابق اگر دونوں فریق مناسب سمجھیں تو عوامی سطح پر ملاقات کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ حزب اللہ کی اعلیٰ قیادت نے شام کی نئی حکومت کے ساتھ براہِ راست رابطوں یا ممکنہ ملاقات کی کھل کر حمایت کی ہے، جسے خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
حزب اللہ کئی برس تک شام کی خانہ جنگی کے دوران سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کرتی رہی۔ اسی عرصے میں شام، ایران سے لبنان تک اسلحہ اور دیگر رسد کی ترسیل کے لیے ایک اہم زمینی راستہ بھی سمجھا جاتا تھا۔
تاہم دسمبر 2024 میں شام میں نئی حکومت کے قیام کے بعد خطے کی سیاسی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی، جس کے باعث شام اور حزب اللہ کے تعلقات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے تھے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نعیم قاسم کا حالیہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ حزب اللہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات کے مطابق شام کی نئی قیادت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت مستقبل میں دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی رابطوں کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر شام کی نئی حکومت اور حزب اللہ کے درمیان باضابطہ ملاقات ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف لبنان اور شام تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی علاقائی سیاست، سلامتی اور طاقت کے توازن پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
