Table of Contents
مسقط: آبنائے ہرمز جہاز حملہ کے ایک نئے واقعے میں عمان کے ساحل کے قریب لائبیریا کے پرچم بردار ایک تجارتی مال بردار جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی، عملے کو ہنگامی طور پر جہاز خالی کرنا پڑا جبکہ ایک ملاح لاپتا بتایا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی بحری سکیورٹی ذرائع کے مطابق "مینوآن پائنیر” (Minoan Pioneer) نامی ڈرائی بلک کارگو جہاز آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا کہ اسی دوران ایک نامعلوم پروجیکٹائل اس سے ٹکرا گیا۔
انجن روم میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
برطانوی میری ٹائم رسک مینجمنٹ کمپنی وینگارڈ کے مطابق پروجیکٹائل جہاز کے انجن روم سے ٹکرایا، جس کے باعث رہائشی حصے میں آگ لگ گئی۔
عملے نے ابتدائی طور پر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی، تاہم صورتحال بگڑنے پر ہنگامی امداد طلب کی گئی اور جہاز کو خالی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ایک انجینئر لاپتا، باقی عملہ محفوظ منتقل
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جہاز کا تھرڈ انجینئر لاپتا ہے، جبکہ دیگر تمام عملے کے ارکان بحفاظت جہاز چھوڑنے میں کامیاب ہو گئے۔
یونان کی شپنگ کمپنی موڈیون میری ٹائم مینجمنٹ، جو اس جہاز کو چلاتی ہے، نے تاحال واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
حملہ آور کی شناخت تاحال سامنے نہ آ سکی
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ پروجیکٹائل کس مقام سے فائر کیا گیا یا حملے کے پیچھے کون ذمہ دار ہے۔
بحری سکیورٹی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ علاقے میں نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے۔
عالمی تجارت کے لیے اہم سمندری گزرگاہ
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور تجارتی سامان کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے سکیورٹی واقعات عالمی جہاز رانی، توانائی کی ترسیل، تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
