Table of Contents
تہران: ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور نے امریکی زیرِ آب ڈرون پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔
IRGC نیوی کے مطابق کارروائی آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر کی گئی۔
ایرانی فورسز نے اسے ایک پیچیدہ انٹیلی جنس آپریشن قرار دیا ہے۔
IRGC کے مطابق ڈرون ایک جدید خود مختار زیرِ آب گاڑی ہے۔
اسے امریکی فوج نے 2025 میں اپنے بیڑے میں شامل کیا تھا۔
ایرانی فورسز کا مؤقف
IRGC نے کہا کہ کارروائی صبح کے وقت کی گئی۔
ایرانی بحری فورسز نے پہلے اس گاڑی کی نگرانی کی۔
اس کے بعد اسے قبضے میں لے لیا گیا۔
IRGC کے مطابق زیرِ آب گاڑی اب ایرانی فورسز کے پاس ہے۔
ایرانی حکام نے اس کی تصاویر اور ویڈیو جاری کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
امریکی فوج کا مختلف مؤقف
امریکی سینٹرل کمانڈ نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔
تاہم امریکی مؤقف ایرانی دعوے سے مختلف ہے۔
سینٹکام کے مطابق زیرِ آب گاڑی ایک دن سے زیادہ پہلے خراب ہوگئی تھی۔
امریکی حکام نے اسے پرانا ماڈل قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق گاڑی میں حساس معلومات جمع کرنے کا سامان موجود نہیں تھا۔
اس میں خفیہ سونار یا ریڈار نظام بھی موجود نہیں تھا۔
کون سی زیرِ آب گاڑی تھی؟
ایرانی میڈیا کے مطابق گاڑی Dive-LD ماڈل کی ہے۔
یہ امریکی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی Anduril کی تیار کردہ خود مختار زیرِ آب گاڑی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسے اپریل 2025 میں امریکی بحریہ کے یونٹ کے حوالے کیا گیا تھا۔
یہ گاڑی نگرانی، سمندری نقشہ سازی اور بارودی سرنگوں کی تلاش جیسے کام انجام دے سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی
یہ واقعہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔
حالیہ دنوں میں اس علاقے میں امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق مزید اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے۔
امریکی اور ایرانی مؤقف میں فرق کے باعث زیرِ آب ڈرون کی گرفتاری کی تفصیلات ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہیں۔
