Table of Contents
یروشلم: اسرائیل نے برطانیہ کی نئی پابندیوں کے خلاف جوابی اقدامات کا اعلان کردیا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیدیون ساعر نے یہ اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کیا جائے گا۔
برطانیہ نے اس سے قبل مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد روکنے کا اعلان کیا تھا۔
اسرائیل نے برطانوی اقدام کو اپنے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔
12 برطانوی شخصیات کے داخلے پر پابندی
اسرائیلی وزیر خارجہ نے 12 برطانوی شخصیات کے داخلے پر پابندی کا بھی اعلان کیا۔
ان میں سابق لیبر رہنما جیریمی کوربن اور رکن پارلیمنٹ زارا سلطانہ شامل ہیں۔
ڈیان ایبٹ، جان میک ڈونل، رچرڈ برگن اور ناز شاہ کے نام بھی شامل ہیں۔
گرین پارٹی کے بعض ارکان پارلیمنٹ پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
اسرائیل نے ان افراد پر اسرائیل مخالف سرگرمیوں سے متعلق الزامات عائد کیے ہیں۔
فلسطینی سکیورٹی فورسز کی تربیت بھی ختم
اسرائیل نے برطانوی سکیورٹی تعاون کے حوالے سے بھی فیصلہ کیا ہے۔
اسرائیلی اعلان کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز کی برطانوی تربیت ختم کی جائے گی۔
برطانوی نمائندوں کو غزہ کے لیے قائم بین الاقوامی رابطہ مشن سے بھی ہٹایا جائے گا۔
یہ مشن غزہ میں امداد اور جنگ بندی سے متعلق رابطوں میں کردار ادا کرتا ہے۔
برطانیہ نے اسرائیلی بستیوں پر پابندی کیوں لگائی؟
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیلی بستیوں کے خلاف اقدامات کا اعلان کیا تھا۔
برطانیہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتا ہے۔
لندن نے بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی کا اعلان کیا۔
برطانیہ نے بستیوں کی توسیع میں مدد دینے والی کمپنیوں کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
لندن کے مطابق بستیوں کی توسیع دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
ایڈ ملی بینڈ کا اسرائیل پر سخت مؤقف
ایڈ ملی بینڈ نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے بعض آبادکاروں کی کارروائیوں کو ’’نسلی تطہیر‘‘ قرار دیا۔
ملی بینڈ نے اسرائیلی حکومت پر ان واقعات سے چشم پوشی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بیانات برطانوی حکومت کے نئے پالیسی اقدامات کے پس منظر میں سامنے آئے۔
اسرائیل نے برطانوی اقدام کو مداخلت قرار دے دیا
گیدیون ساعر نے برطانوی فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے اسے اسرائیل کے اندرونی معاملات اور انتخابی عمل میں مداخلت قرار دیا۔
ساعر کے مطابق اسرائیل نے اپنے جوابی اقدامات وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے مشاورت کے بعد کیے۔
اسرائیل میں اکتوبر کے آخر میں انتخابات بھی متوقع ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان سفارتی کشیدگی میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے۔
تازہ اقدامات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید متاثر کیا ہے۔
فرانس، کینیڈا اور دیگر ممالک نے بھی اسرائیلی بستیوں سے متعلق پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیل نے ان اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی ہے۔
اس صورتحال سے مغربی کنارے کی بستیوں اور دو ریاستی حل پر عالمی اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔
