ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے خبردار کیا ہے کہ جب تک امریکا کی مبینہ جارحانہ کارروائیاں اور “شرارتیں” ختم نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آئی آر جی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے مبینہ طور پر خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کے بہانے ایرانی فوجی اڈوں پر حملے کیے، جن کا مقصد اپنی ناکامی اور بے بسی کو چھپانا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی ناکہ بندی کے دوران کوئی بھی بحری جہاز اس کی خلاف ورزی کرنے یا امریکی افواج کا ساتھ دینے کی ہمت نہیں کر سکا، اسی وجہ سے کسی تجارتی یا بحری جہاز کو نشانہ بنانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن “صاعقہ” کے آٹھویں مرحلے کے تحت خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملوں کی نئی لہر شروع کر دی گئی ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق دھماکا خیز ڈرونز کے ذریعے اردن کے الازرق فضائی اڈے پر موجود امریکی F-18 لڑاکا طیاروں کی پوزیشنز اور فوجی ساز و سامان کے بڑے ہینگرز کو دوسری مرتبہ نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی فوجی سرگرمیوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری مسلسل تحمل، سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے بحران کے حل پر زور دے رہی ہے۔

