امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہ کے لیے نامزد جے کلیٹن کی توثیق کے سلسلے میں اہم سماعت کرے گی۔ یہ سماعت کئی ہفتوں کی تاخیر کے بعد منعقد ہو رہی ہے۔
جے کلیٹن، جو اس وقت نیویارک کے جنوبی ضلع کے امریکی اٹارنی اور ماضی میں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) کے چیئرمین رہ چکے ہیں، اپنی نامزدگی کی منظوری کے لیے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے ارکان کے سوالات کا سامنا کریں گے۔
ریپبلکن ارکان کے ساتھ ساتھ بعض ڈیموکریٹ سینیٹرز بھی کلیٹن کی جلد از جلد توثیق کے حامی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ موجودہ عبوری سربراہ بل پلٹ کی تقرری پر اٹھنے والے تحفظات ہیں، جنہیں 19 جون سے عبوری طور پر ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بل پلٹ کے پاس انٹیلی جنس امور کا خاطر خواہ تجربہ نہیں، جبکہ ان پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے اپنی سابقہ سرکاری ذمہ داریوں کے دوران سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ٹام کاٹن نے گزشتہ ماہ جے کلیٹن کی نامزدگی میں تاخیر پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ ان کے مطابق کلیٹن کو وائٹ ہاؤس کی ہدایت پر پہلے سے طے شدہ سماعت میں شرکت سے روک دیا گیا تھا، تاہم اب سماعت دوبارہ شیڈول کر دی گئی ہے۔
اگرچہ جے کلیٹن کو دونوں بڑی جماعتوں کے بعض ارکان کی حمایت حاصل ہے، تاہم ڈیموکریٹ اراکین کی جانب سے ان سے انتخابی مداخلت، انٹیلی جنس اداروں کی غیر جانبداری اور میڈیا کی آزادی سے متعلق معاملات پر سخت سوالات کیے جانے کا امکان ہے۔
رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹ ارکان خاص طور پر 2020 کے صدارتی انتخابات سے متعلق معاملات، انتخابی مداخلت کے الزامات اور نیویارک ٹائمز کے صحافیوں کو جاری کیے گئے حالیہ سمن (Subpoenas) میں ان کے ممکنہ کردار پر بھی وضاحت طلب کر سکتے ہیں۔
یہ سماعت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتخابات سے متعلق ایک اہم خطاب کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے باعث امریکی انٹیلی جنس اداروں کے مستقبل اور ان کی قیادت پر سیاسی توجہ مزید بڑھ گئی ہے۔

