آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو درپیش مشکلات کے تناظر میں ایران کی جانب سے بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے باب المندب میں بھی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق یمن کے حوثی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب نے یمن میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو وہ باب المندب میں جہاز رانی محدود یا بند کرنے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں حوثی تحریک کے سیاسی بیورو کے رکن محمد الفرح کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں کو ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت بند کیا جا سکتا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایسی صورت میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
محمد الفرح نے الزام عائد کیا کہ امریکا، سعودی عرب کو یمن میں مزید فوجی کارروائیوں پر اکسا رہا ہے، تاہم ان کے بقول اس قسم کی پالیسی خود واشنگٹن کے مفاد میں بھی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنگ میں شدت آئی تو دونوں اہم بحری گزرگاہیں عالمی تجارت کے لیے خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر فواز گرجیس نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ صرف آبنائے ہرمز ہی نہیں بلکہ باب المندب کے ذریعے بھی عالمی توانائی کی ترسیل کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق اگر دونوں بحری راستے بیک وقت بحران کا شکار ہوئے تو یہ تنازع صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈی کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ غزہ جنگ کے آغاز کے بعد ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر متعدد حملے کیے تھے۔ ان حملوں کے باعث کئی عالمی شپنگ کمپنیوں نے اپنے بحری راستے تبدیل کر دیے، جس سے نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ امریکا اور برطانیہ نے حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملے بھی کیے اور بین الاقوامی بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ بحری مشن قائم کیا۔
کنگز کالج لندن کے اسکول آف سیکیورٹی اسٹڈیز کے سینئر لیکچرر آندریاس کریگ کے مطابق باب المندب بند کرنے کی دھمکی ایران کے لیے ایک اضافی تزویراتی دباؤ کا ذریعہ ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو تہران اپنے یمنی اتحادیوں کے ذریعے باب المندب میں بھی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی اور تجارتی سرگرمیوں پر مزید منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

