اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سعودی عرب پہنچ گئے، جہاں وہ سعودی قیادت اور اعلیٰ حکام سے موجودہ سیکیورٹی صورتحال، علاقائی استحکام اور دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر اہم ملاقاتیں کریں گے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ پیر کے روز سعودی عرب پہنچے، تاہم ان کے دورے کے مکمل ایجنڈے سے متعلق باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقاتوں میں مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ پیش رفت، خلیجی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور زیرِ بحث آئیں گے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد خطے میں ایک مرتبہ پھر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری اختلافات، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور خلیجی ممالک کے تحفظات نے پورے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب، قطر اور دیگر علاقائی ممالک گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی کوششوں میں سرگرم رہے ہیں۔ پاکستان نے بھی مختلف سفارتی رابطوں کے ذریعے خطے میں استحکام اور مذاکرات کی حمایت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورے کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سیکیورٹی تعاون، علاقائی امن، انسداد دہشت گردی اور موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک دفاع، سلامتی، معیشت اور سفارت کاری سمیت مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ علاقائی حالات میں وزیر داخلہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان مشاورت کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق ایران سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متوقع ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازعات، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور دیگر تکنیکی معاملات پر بات چیت کا امکان ہے، تاہم ایرانی حکام اس حوالے سے مختلف مؤقف اختیار کر چکے ہیں۔
