Table of Contents
اسلام آباد: پاکستان اور قازقستان نے زرعی تعاون کو نئی سمت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
دونوں ممالک موجودہ معاہدوں پر عملدرآمد تیز کریں گے۔
مفاہمتی یادداشتوں کو بھی عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے تجارتی اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔
یہ اتفاق وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور قازقستان کے سفیر یرژان کستافن کی ملاقات میں ہوا۔
ملاقات اسلام آباد میں ہوئی۔
زرعی تجارت اور غذائی تحفظ پر گفتگو
ملاقات میں زرعی تجارت اور غذائی تحفظ پر بات چیت ہوئی۔
دونوں جانب نے علاقائی رابطوں کو بھی اہم قرار دیا۔
زرعی مشینری اور نجی شعبے کے تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
رانا تنویر حسین نے زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان وسیع امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس قازقستان میں ہوگا
پاکستان اور قازقستان نے اہم فیصلہ بھی کیا۔
دونوں ممالک کا مشترکہ ورکنگ گروپ آئندہ اجلاس قازقستان میں منعقد کرے گا۔
اجلاس میں زرعی تعاون کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
تعاون کے نئے شعبوں کی بھی نشاندہی کی جائے گی۔
پاکستان اجلاس میں شرکت کے لیے اپنا وفد نامزد کرے گا۔
قازقستان کی گندم فراہمی میں دلچسپی
قازقستان نے پاکستان کو گندم فراہم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
پاکستان نے اس تجویز کا جائزہ لینے پر آمادگی ظاہر کی۔
اس جائزے میں قیمت اور معیار کو مدنظر رکھا جائے گا۔
فراہمی کی شرائط اور ملکی ضروریات بھی سامنے رکھی جائیں گی۔
وسطی ایشیا تک تجارتی روابط پر توجہ
ملاقات میں علاقائی رابطوں کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
پاکستان اور قازقستان کے درمیان ریلوے روابط پر بات چیت ہوئی۔
وسطی ایشیا کو پاکستان سے ملانے والے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ان روابط سے مال برداری کے اخراجات کم ہوسکتے ہیں۔
اس سے زرعی اجناس کو نئی منڈیوں تک رسائی بھی مل سکتی ہے۔
پاکستانی زرعی اجناس کی برآمدات
پاکستان نے اپنی زرعی برآمدات کے امکانات بھی اجاگر کیے۔
ان میں آم، امرود اور کھجور شامل ہیں۔
کیلے، آلو اور پیاز بھی اہم برآمدی اجناس ہیں۔
پاکستان قازقستان اور وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی بڑھانا چاہتا ہے۔
بہتر لاجسٹکس اور تجارتی سہولت کاری اس مقصد میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
زرعی مشینری میں تعاون کے امکانات
زرعی مشینری بھی تعاون کا اہم شعبہ بن سکتی ہے۔
دونوں ممالک نے جدید زرعی آلات کی فراہمی پر بات کی۔
کم لاگت ٹریکٹرز بھی زیر بحث آئے۔
یہ سہولت خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے کسانوں کے لیے اہم ہے۔
دونوں جانب نے نجی شعبے کو تعاون کی ترغیب دینے پر اتفاق کیا۔
ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری پر زور
رانا تنویر حسین نے زرعی اداروں کے درمیان روابط بڑھانے پر زور دیا۔
تحقیقی مراکز کے درمیان تعاون بھی ضروری قرار دیا گیا۔
کاروباری برادری کے روابط مضبوط بنانے پر بھی اتفاق ہوا۔
اس تعاون سے ٹیکنالوجی کے تبادلے میں مدد مل سکتی ہے۔
سرمایہ کاری اور مارکیٹ پر مبنی منصوبوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
دونوں ممالک نے زرعی شعبے میں عملی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس تعاون سے پاکستان اور قازقستان کے اقتصادی روابط مزید مضبوط ہوسکتے ہیں۔
