Table of Contents
لاہور: امریکی قونصلیٹ جنرل لاہور نے امریکا کی آزادی کی 250ویں سالگرہ کے سلسلے میں استقبالیہ دیا۔
تقریب کا عنوان ’’آزادی کی گونج‘‘ رکھا گیا تھا۔
اس موقع پر پاکستان اور امریکا کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
امریکی قونصل جنرل سٹیٹسن سینڈرز نے تقریب سے خطاب کیا۔
انہوں نے پاک امریکا تعلقات اور مشترکہ اقتصادی مفادات پر روشنی ڈالی۔
امریکی خارجہ پالیسی کے چار ستون
سٹیٹسن سینڈرز نے امریکی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کے چار مرکزی ستونوں کا ذکر کیا۔
ان میں جدت، تخلیقی صلاحیت، باہمی رابطے اور مواقع شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اصول پاکستان اور امریکا کے موجودہ تعلقات میں بھی اہم ہیں۔
انہوں نے آزادی اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق امریکی اصولوں کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق یہ اصول دونوں ممالک کے لیے ترقی کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
پنجاب کی اہم شخصیات کی شرکت
تقریب میں پنجاب کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
ان میں سرکاری افسران اور منتخب نمائندے شامل تھے۔
سماجی رہنما، کاروباری شخصیات اور ماہرین تعلیم بھی شریک ہوئے۔
صحافیوں اور سفارتی عملے کے ارکان نے بھی تقریب میں شرکت کی۔
پنجاب کے گورنر سردار سلیم حیدر خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
پاک امریکا اقتصادی روابط پر گفتگو
قونصل جنرل سینڈرز نے پاکستان میں امریکی نجی شعبے کی شراکت داری کا ذکر کیا۔
انہوں نے روزگار اور کاروباری صلاحیتوں کے فروغ کو اہم قرار دیا۔
انہوں نے ہری پور میں گوگل کروم بکس کی اسمبلی کا بھی حوالہ دیا۔
پاکستانی ٹیکنالوجی اور ٹیلنٹ میں امریکی سرمایہ کاری کا بھی ذکر کیا گیا۔
سینڈرز نے پاکستانی ٹیکنالوجی کی نمایاں شخصیت ارفع کریم کی کامیابیوں کو بھی اجاگر کیا۔
انہوں نے سیالکوٹ میں فٹ بالز کی تیاری کو بھی دونوں ممالک کے تجارتی روابط کی مثال قرار دیا۔
تجارت کو تعلقات کی بنیاد قرار دیا گیا
امریکی قونصل جنرل نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط ہیں۔
انہوں نے بڑھتی ہوئی دوطرفہ تجارت کو تعلقات کا اہم حصہ قرار دیا۔
سینڈرز کے مطابق گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 8.5 ارب ڈالر تک پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ تجارت اقتصادی تعاون اور مارکیٹ تک رسائی کے لیے اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔
پنجاب کے نوجوانوں پر اعتماد
سینڈرز نے پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے مستقبل پر بھی بات کی۔
انہوں نے پنجاب کی جامعات اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کا ذکر کیا۔
ان کے مطابق پنجاب میں کاروباری افراد، انجینئرز اور محققین موجود ہیں۔
فنکار اور جدت پسند بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کی بہترین صلاحیتیں ابھی مزید سامنے آنا باقی ہیں۔
سینڈرز نے کہا کہ امریکا مستقبل میں بھی شراکت داری کے لیے موجود ہوگا۔
قومی ترانوں اور جاز موسیقی کا اہتمام
تقریب کا آغاز پاکستان اور امریکا کے قومی ترانوں سے ہوا۔
اختتام پر جاز موسیقی پیش کی گئی۔
موسیقی کو دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔
تقریب میں فلاڈیلفیا کی مشہور لبرٹی بیل کے حقیقی حجم کے ماڈلز بھی رکھے گئے۔
یہ ماڈلز پاکستانی فنکاروں نے تیار اور پینٹ کیے تھے۔
ان کی تیاری میں امریکی قونصلیٹ کے لنکن کارنر نیٹ ورک نے تعاون کیا۔
Freedom 250 کیا ہے؟
Freedom 250 امریکا کی آزادی اور اعلانِ آزادی کی 250ویں سالگرہ سے متعلق ایک سالہ عالمی اقدام ہے۔
امریکی مشنز دنیا بھر میں اس حوالے سے مختلف تقریبات کا انعقاد کر رہے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق Freedom 250 کے تحت ثقافتی اور فنونِ لطیفہ سے متعلق سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔
لاہور میں ہونے والی تقریب بھی اسی سلسلے کی سرگرمیوں کا حصہ تھی۔
اس کا مقصد امریکی اقدار، ثقافت اور بین الاقوامی شراکت داریوں کو اجاگر کرنا ہے۔
