واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور روس کو ایران کے ساتھ جاری جنگ میں مداخلت سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک اس تنازع میں شریک ہوئے تو اس کے نتائج ان کے لیے انتہائی سنگین ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل (Truth Social) پر جاری بیان میں کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ اس وقت چین یا روس ایران جنگ میں عملی طور پر شریک ہیں، تاہم اگر انہوں نے مداخلت کی تو "یہ ان کے لیے بہت برا ثابت ہوگا۔”
انہوں نے کہا کہ حالیہ دورۂ بیجنگ کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ چین کسی بھی صورت میں ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کرے گا اور نہ ہی چینی کمپنیاں ایسا کریں گی۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی انہیں بتایا تھا کہ روس ایران کو اسلحہ فروخت نہیں کرے گا، اسی لیے وہ سمجھتے ہیں کہ روس اور چین اس تنازع میں براہِ راست شریک نہیں ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر چین یا روس اس جنگ میں شامل ہوئے تو یہ ان کے اپنے مفادات کے بھی خلاف ہوگا۔
دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس سے واقف چار ذرائع کے مطابق جنگ کے ابتدائی مرحلے میں خلیج میں سی آئی اے کے اہداف پر ایرانی حملوں کے بعد امریکی اداروں نے اس بات کی تحقیقات شروع کیں کہ آیا روس ایران کو اہداف کی نشاندہی یا ڈرون ٹیکنالوجی میں معاونت فراہم کر رہا ہے یا نہیں۔
ادھر کریملن نے اس حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

