Table of Contents
ویانا، آسٹریا میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ کم عمر طالبات کے حجاب پر پابندی نافذ ہوگئی ہے۔
نئے قانون کے تحت 14 سال سے کم عمر طالبات اسکول میں اسلامی روایت کے مطابق سر ڈھانپنے والا حجاب نہیں پہن سکیں گی۔
یہ پابندی سرکاری اور نجی دونوں اسکولوں پر لاگو ہوگی۔
قانون یکم ستمبر سے نافذ
آسٹریا کی پارلیمنٹ کے مطابق پابندی یکم ستمبر 2026 سے نافذ ہوئی ہے۔
قانون 14ویں سالگرہ تک کی طالبات پر لاگو ہوگا۔
تاہم، اسکول کی عمارت سے باہر ہونے والی تدریسی سرگرمیاں اس پابندی میں شامل نہیں ہیں۔
گھریلو تعلیم بھی اس پابندی سے مستثنیٰ ہے۔
اسکول سے باہر ہونے والی بعض تعلیمی اور اسکول سے متعلق تقریبات بھی مستثنیٰ ہیں۔
خلاف ورزی پر مرحلہ وار کارروائی
قانون میں خلاف ورزی کے لیے مرحلہ وار طریقہ کار مقرر کیا گیا ہے۔
پہلی خلاف ورزی پر اسکول انتظامیہ طالبہ اور اس کے سرپرستوں سے بات کرے گی۔
دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ تعلیمی حکام کو اطلاع دی جائے گی۔
مزید خلاف ورزی پر بچوں اور نوجوانوں کی فلاحی خدمات کو بھی مطلع کیا جا سکتا ہے۔
آخری مرحلے میں 150 سے 800 یورو تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
جرمانہ ادا نہ ہونے کی صورت میں دو ہفتے تک متبادل حراست کی گنجائش بھی قانون میں موجود ہے۔
حکومت کا مؤقف
آسٹریا کی حکومت قانون کو کم عمر لڑکیوں کی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ سے جوڑتی ہے۔
حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد صنفی مساوات کو فروغ دینا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کم عمر طالبات کو سماجی یا خاندانی دباؤ سے تحفظ ملنا چاہیے۔
وزیرِ انضمام کلاڈیا باؤر نے حجاب کو کم عمر لڑکیوں پر دباؤ اور کنٹرول کی علامت قرار دیا ہے۔
قانون پر سیاسی اختلاف
قانون کو آسٹریا کی حکومتی جماعتوں نے حمایت دی۔
پارلیمانی ریکارڈ کے مطابق ÖVP، SPÖ اور NEOS نے اس قانون کی حمایت کی۔
دائیں بازو کی FPÖ نے بھی قانون کے حق میں ووٹ دیا۔
تاہم، گرین پارٹی نے قانون کی مخالفت کی۔
گرین پارٹی نے اسے مسلم بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا۔
پارٹی نے قانون کو آئینی اور بین الاقوامی حقوق کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
آسٹریا میں بحث جاری
حجاب پر پابندی نے آسٹریا میں مذہبی آزادی اور بچوں کے حقوق پر بحث دوبارہ شروع کر دی ہے۔
حکومت اسے کم عمر لڑکیوں کے تحفظ اور مساوات سے جوڑتی ہے۔
ناقدین اسے مذہبی آزادی اور امتیازی سلوک کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
یوں نئے قانون پر سیاسی اور قانونی بحث آئندہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔
